لاہور/اسلام آباد: جسٹس محسن اختر کیانی نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو ارسال کر دیا ہے۔ اپنے استعفے میں انہوں نے ذاتی وجوہات، حالیہ آپریشن کے بعد صحت کے مسائل اور ضمیر کے تقاضوں کا حوالہ دیا، جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے نتیجے میں عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی کے مطابق، اعلیٰ عدلیہ میں انتظامیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ججوں کی تقرریوں اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے، جس سے عدالتی اداروں کی خودمختاری اور انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ عدالتی منصب پر مزید کام جاری رکھنے کے لیے خود کو آمادہ نہیں پاتے۔
آئینی ترامیم پر تحفظات
اپنے استعفے میں جسٹس کیانی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی وقار کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے عدالتی معاملات میں انتظامیہ کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ججوں کی تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق فیصلوں میں بڑھتا ہوا انتظامی اثر عدالتی عمل کی غیر جانب داری کے بارے میں خدشات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے عام شہریوں کو درپیش قانونی مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے آنے والے افراد نظام کے بنیادی فریق ہیں، لیکن ان کی ضروریات اکثر نظرانداز ہو جاتی ہیں۔
جسٹس کیانی نے واضح کیا کہ عدالتی منصب کا تعلق آئین سے وفاداری، انصاف کی آزادی اور انسانی وقار کے تحفظ سے ہے۔ ان کے مطابق، انہی اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ منتقلی
جسٹس محسن اختر کیانی اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے، جہاں وہ سینیارٹی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے۔ رواں سال اپریل میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی منظوری کے بعد ان کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ کر دیا گیا تھا۔
اس تبادلے کے بعد ان کی سینیارٹی کی پوزیشن تبدیل ہوئی اور وہ لاہور ہائی کورٹ کی فہرست میں نچلے درجے پر آگئے۔ حالیہ عدالتی روسٹر کے تحت انہیں راولپنڈی بینچ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بھی مقرر کیا گیا تھا۔
جسٹس کیانی ان ججوں میں شامل رہے ہیں جنہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دیگر ججوں کے ساتھ مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت سے متعلق خدشات سامنے رکھے تھے۔ ان معاملات نے بعد ازاں عدلیہ کی آزادی، ججوں کے تبادلوں اور انتظامی اختیارات کے استعمال پر وسیع قانونی بحث کو جنم دیا۔
جسٹس کیانی نے اپنے استعفے میں بتایا کہ عدالتی خدمات کے دوران انہوں نے مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے۔ ان کے مطابق، ان کی کوشش رہی کہ آئین کی بالادستی برقرار رہے، بنیادی حقوق کا تحفظ ہو اور فیصلے کسی خوف یا دباؤ کے بغیر کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ عدالتی منصب چھوڑ کر دوبارہ وکالت کے شعبے سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں، تاکہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھ سکیں۔


