اسرائیل میں انتخابات : نیتن یاہو کا اتحاد پھر آگے

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے عام انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے اتحاد کو 54 جبکہ حکومت کی تبدیلی کی خواہاں اپوزیشن کو 47 نشستیں ملنے کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔ تازہ انتخابی اعداد و شمار کے مطابق، عرب جماعتیں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جس سے نئی حکومت کی تشکیل میں ان کا کردار اہم ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، 28 اکتوبر 2026 کو تقریباً 77 فیصد بیلٹ بکس کی گنتی مکمل ہونے پر اسرائیلی انتخابی حکام کے جاری کردہ جزوی نتائج میں نیتن یاہو کا اتحاد 54 نشستوں پر تھا، جبکہ اپوزیشن اتحاد 47 نشستوں پر موجود تھا۔ عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ کو 13 اور رام جماعت کو 6 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ جزوی نتائج کے مطابق، نہ نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی اپوزیشن اتحاد تنہا اس حد تک پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایسی صورتِ حال میں حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں کی حمایت اور سیاسی مذاکرات اہم ہوں گے۔ عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں اس عمل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہیں، تاہم ان جماعتوں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔

نیتن یاہو اور اپوزیشن کے درمیان مقابلہ

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کو 27 نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے، جبکہ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کو تقریباً 20 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔

نیتن یاہو نے دائیں بازو کی حکومت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ آئزن کوٹ نے بھی متبادل حکومت تشکیل دینے کی کوشش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

عرب جماعتوں کا کردار اہم

جزوی نتائج میں عرب جماعتوں کی بہتر کارکردگی نے حکومت سازی کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اپوزیشن کو حکومت بنانے کے لیے ان جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے یا کسی دوسرے سیاسی بندوبست پر اتفاق کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تاہم، ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور حتمی نتائج سامنے آنے تک نشستوں کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔ اسرائیل میں آئندہ حکومت کی تشکیل کا انحصار حتمی نتائج اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر ہوگا۔