ایران میں ایک دو اہداف باقی لیکن فوری حملے کا ارادہ نہیں: ٹرمپ

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن فی الحال کسی فیصلے میں جلد بازی نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کی بحری اور فضائی قوت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اس لیے فوری کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

نیو یارک ٹائمز کےمطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مارالاگو میں ہالووین تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے معاملے پر زیادہ عجلت میں نہیں ہے۔ تاہم ایران میں ایک یا دو ایسے مقامات باقی ہیں جن کے بارے میں امریکا کا خیال ہے کہ انہیں مزید کارروائی کا نشانہ بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ان مقامات کو مختصر وقت میں نشانہ بنا سکتی ہے۔ ان کے بیان میں ایران کے ایک مشتبہ زیرِ زمین جوہری مقام پک ایکس ماؤنٹین کا بھی ذکر کیا گیا۔ تاہم ایرانی حکومت اس مقام پر جوہری سرگرمیوں کی موجودگی کی تردید کرتی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو بظاہر جاری قرار دیتے ہوئے تہران پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کی بات کرتا ہے لیکن بعد میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران پر نئی فوجی کارروائی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔