مسقط: پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے آٹھ ملکی انڈر 19 ایشیا کپ میں شرکت کے لیے تیار ہے، جہاں وہ اپنے ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔ ایونٹ 5 سے 14 نومبر تک اومان میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان کو گروپ اے میں بھارت، نیپال اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ قومی ٹیم اپنا پہلا میچ 6 نومبر کو یو اے ای کے خلاف کھیلے گی، جبکہ روایتی حریف بھارت سے مقابلہ 8 نومبر کو ہوگا۔ پاکستان کا تیسرا گروپ میچ 10 نومبر کو نیپال کے خلاف شیڈول ہے۔
پاکستان نے گزشتہ سال دسمبر میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کو 191 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ قومی ٹیم اس مرتبہ بھی چیمپئن بننے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
ایشیا کپ سے قبل پاکستان انڈر 19 ٹیم نے انگلینڈ کا کامیاب دورہ کیا، جہاں چار میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم نے 1-3 سے کامیابی حاصل کی۔ تاہم واحد چار روزہ میچ میں پاکستان کو صرف 10 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انگلینڈ کے دورے میں کپتان فرحان یوسف نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار ون ڈے میچوں میں 223 رنز بنائے، جن میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری شامل تھی۔
پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ہیڈ کوچ شاہد انور نے پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ٹیم کو ٹورنامنٹ سے چار سے پانچ روز قبل اومان بھیج کر کھلاڑیوں کو وہاں کے موسمی حالات سے ہم آہنگ ہونے کا موقع فراہم کیا۔
ان کے مطابق کھلاڑیوں نے گزشتہ چند روز کے دوران بھرپور ٹریننگ کی ہے اور تمام کھلاڑی مکمل فٹ، پُرعزم اور ٹائٹل کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
شاہد انور کا کہنا تھا کہ ٹیم کا ہدف بے خوف کرکٹ کھیلنا ہے اور ہر کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی دکھا کر ٹیم کی کامیابی میں حصہ ڈالنے کے لیے پُرجوش ہے۔ ان کے بقول دفاعی چیمپئن ہونا دباؤ نہیں بلکہ اعزاز ہے، کیونکہ گزشتہ ایڈیشن میں کامیابی سے ٹیم کا اعتماد بڑھا ہے۔
سیمی فائنل اور فائنل کب ہوگا؟
ٹورنامنٹ کے گروپ بی میں افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ملائیشیا شامل ہیں۔ ایونٹ کے سیمی فائنلز 12 نومبر کو کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل 14 نومبر کو شیڈول ہے۔
پاکستان انڈر 19 اسکواڈ
فرحان یوسف (کپتان)، عبدالقادر (وکٹ کیپر)، عبدالصبحان، احمد حسین، علی رضا، حمزہ ظہور (وکٹ کیپر)، حسنین عباس ڈار، حایم خان، حذیفہ احسن، جہانگیر بلال، محمد حذیفہ، محمد سیام، نقاب شفیق، رضوان اللہ اور عثمان خان۔


