وسط مدتی انتخابات میں ناکامی کے بعد ٹرمپ کے خلاف محاذ ؛ تحقیقات کا اعلان

واشنگٹن: امریکا میں مڈٹرم انتخابات میں تاریخی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق انتخابات میں بدعنوانی کا معاملہ عوام کی سب سے بڑی تشویش بن کر ابھرا، جو مہنگائی کے بعد دوسرا بڑا ایشو تھا۔ اسی عوامی غصے کو بنیاد بنا کر ڈیموکریٹس نے وائٹ ہاؤس کے خلاف محاذ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ہاؤس اوورسائٹ کمیٹی کے متوقع نئے چیئرمین رابرٹ گارسیا نے الیکشن نائٹ پر سوشل میڈیا پر صرف دو لفظ لکھے: “لائر اپ” یعنی وکیل کر لو۔

گارسیا نے کہا کہ وہ ٹرمپ کرائم فیملی، کارپوریٹ کرپشن، ڈی ایچ ایس اور آئیس کے مظالم اور ایپسٹین فائلز پر پردہ ڈالنے کی تحقیقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی کرپٹو اسکینڈل میں اربوں ڈالر کی کمائی امریکی سیاست میں کرپشن کی بے مثال مثال ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کامرس کمیٹی کے سینیٹر ایڈ مارکی نے بگ ٹیک کو وارننگ دی کہ ہمیں اتنے سمن پرنٹ کرنے کے لیے نئے جنگل لگانے پڑیں گے۔

ٹرمپ کے قریبی ٹیک ایگزیکٹوز بشمول ایلون مسک، میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین اور اینتھروپک کے ڈاریو امودی کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے صدارت کو ذاتی کاروبار، خاص طور پر 1.5 ارب ڈالر سے زائد کے کرپٹو بزنس کے ذریعے خاندان کو امیر بنانے کے لیے استعمال کیا۔ نئی کانگریس جنوری میں عہدہ سنبھالے گی اور اس کے بعد تحقیقات کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔