ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوتن اور ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کے درمیان ماسکو میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے، مشرق وسطیٰ کی علاقائی سلامتی اور جنگ کے بعد کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق محسن رضائی نے اس ملاقات میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک اہم پیغام بھی روسی صدر تک پہنچایا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہورہی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ ملاقات جمعرات 5 نومبر کو کریملن میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون بڑھانے اور روس سے ایران تک گیس پائپ لائن کی تعمیر کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
پیوتن کو مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ملاقات کے بعد بتایا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے انہیں ہدایت دی تھی کہ ان کا پیغام جلد از جلد روسی صدر تک پہنچایا جائے۔
رضائی کے مطابق ملاقات میں اہم علاقائی معاملات، جنگ کے بعد کی صورت حال اور خطے کے مستقبل کے سکیورٹی انتظامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ روس نے ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے خاتمے کے لیے حمایت کا یقین دلایا ہے۔
تاہم ایرانی سپریم لیڈر کے پیغام میں کیا لکھا گیا تھا، اس کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔
ایران کی 7 شرائط
ملاقات کے بعد محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر مذاکرات اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن تہران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط پوری نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے سفارت کاری کے حوالے سے امریکا کے سامنے سات مطالبات رکھے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے بغیر نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
رضائی نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور اس معاملے میں کسی جزوی پیش رفت کو کافی نہیں سمجھے گا۔
ان سات شرائط کی مکمل تفصیلات اس بیان میں سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی میڈیا کی بعض رپورٹس میں پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات کا ذکر کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا یہ راستہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اس آبی گزرگاہ کی مستقبل کی حیثیت اہم سفارتی مسئلہ بن چکی ہے۔
اس کے علاوہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، تہران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی بحالی بھی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں بنیادی موضوعات ہیں۔
روس سے ایران تک گیس پائپ لائن کا منصوبہ
پیوتن اور محسن رضائی کی ملاقات میں توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
رضائی کے مطابق روس سے ایران تک گیس پائپ لائن تعمیر کرنے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران میں گیس کی کمی پوری کرنا اور روسی گیس کو ایران کے ذریعے پڑوسی ممالک تک پہنچانے کے امکانات پیدا کرنا ہے۔
اس منصوبے سے روس کو اپنی گیس کے لیے مزید علاقائی منڈیاں مل سکتی ہیں، جبکہ ایران توانائی کی ترسیل کے ایک اہم علاقائی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرسکتا ہے۔
تاہم پائپ لائن کی تعمیر کے لیے حتمی لاگت، راستے اور تکمیل کے وقت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی ملاقات کا ذکر
محسن رضائی نے پیوتن کو اکتوبر کے آخری ہفتے میں تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
ان کے مطابق روسی صدر نے اس علاقائی رابطے کا خیرمقدم کیا۔
رضائی کا کہنا تھا کہ ایران اور چین کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے معاملات میں علاقائی ممالک کو بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
ایرانی سفارتی سرگرمیاں تیز
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان رابطوں میں کویت، سعودی عرب، عمان، قطر، ترکیہ اور اردن کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔
ان گفتگوؤں میں خطے کی تازہ صورت حال، جنگ کے خاتمے اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک طرف روس کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کررہا ہے تو دوسری جانب خطے کے عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
روس ایران تعلقات
روس اور ایران دونوں مغربی ممالک کی سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں اور گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
جنوری 2025 میں دونوں ممالک نے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں تجارت، فوجی تعاون، سائنس، ثقافت اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔
یہ معاہدہ اکتوبر 2025 میں نافذ ہوا، تاہم اس میں روس اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والے معاہدے کی طرح باہمی دفاع کی شق شامل نہیں ہے۔
دریں اثنا ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے بھی ہفتے کے روز بتایا تھا کہ ایران روس سے ایس یو 35 لڑاکا طیارے خرید چکا ہے اور جنگ ختم ہونے کے بعد ان کی حوالگی متوقع ہے۔
روس کا ایران امریکا تنازع میں کردار
پیوتن اور محسن رضائی کی ملاقات کو ایسے وقت میں اہمیت دی جارہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے قطر سمیت مختلف ممالک سفارتی کوششیں کررہے ہیں۔
روسی صدر نے اس سے قبل بھی ایرانی قیادت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ماسکو جنگ ختم کرانے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن تعاون کرے گا۔


