ایران سے روابط کا الزام : امریکا کی کینیڈا کی 8 کرنسی ایکسچینج کمپنیوں پر پابندی

واشنگٹن / اوٹاوا: امریکا نے ایران سے مبینہ مالی روابط اور پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرنے کے الزامات کے تحت کینیڈا کی 8 کرنسی ایکسچینج کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کمپنیاں ایرانی اداروں کے لیے مالی لین دین میں سہولت فراہم کر رہی تھیں اور بعض معاملات میں ایرانی کرنسی سمیت دیگر رقوم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرکے منتقل کرنے میں بھی ملوث تھیں۔

الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت یہ کارروائی کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں نے ایرانی اداروں کو مالی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کی، جبکہ بعض کمپنیوں پر مبینہ منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے وابستہ ایک شخص کی رقوم کی منتقلی میں تعاون کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

کون سی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آئیں؟

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیاں کینیڈا کے صوبوں اونٹاریو اور برٹش کولمبیا میں قائم ہیں۔

ان میں معروف کاروباری ناموں کے طور پر ملین ایکسچینج، امین ایکسچینج اور کرپٹو رائل بھی شامل ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے شناخت کی گئی آٹھ کمپنیوں میں ڈائیورس ٹریڈ انکارپوریٹڈ، بی سی لمیٹڈ، ٹاپ پی سی ٹیکنیشن ، این آئی اے نیشنز کرنسی لمیٹڈ، اونٹاریو لمیٹڈ، سی سی سی انکارپوریٹڈ اور بی گلیکسی انکارپوریٹڈ شامل ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ ان میں سے بعض اداروں نے ایرانی ریال اور دیگر کرنسیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں، بشمول کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرکے رقوم کی منتقلی میں کردار ادا کیا۔

امریکی پابندیوں کے بعد کمپنیوں پر کیا اثر پڑے گا؟

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے امریکی مالیاتی نظام تک رسائی محدود ہو جائے گی۔ امریکا میں موجود ان کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکی شہریوں اور اداروں کو ان کمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ کینیڈا کو ایسے مالیاتی سہولت کاروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننا چاہیے جو ایرانی حکومت اور اس سے وابستہ گروہوں کو پابندیوں سے بچنے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

کینیڈا کے مالیاتی لین دین اور رپورٹس کے تجزیے کے ادارے فن ٹراس نے امریکی اعلان کے بعد بتایا کہ اس نے امریکی ادارے فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک کے ساتھ مل کر ان مالیاتی کمپنیوں کے خلاف کارروائی میں تعاون کیا۔

ادارے کے مطابق وہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کے خلاف مختلف ممالک کے مالیاتی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔