اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تحقیق کے شعبے میں تعاون ایک تاریخی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ پاکستان کا پہلا خلا باز چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر پہنچنے کے لیے تیار ہے، جہاں وہ چینی خلا بازوں کے ساتھ مشترکہ مشن میں حصہ لے گا۔
چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے مطابق پاکستانی خلا باز شینژو-24 خلائی جہاز کے ذریعے چین کے خلائی اسٹیشن پہنچے گا، جبکہ مختصر مدت تک خلا میں قیام اور مشن مکمل کرنے کے بعد شینژو-23 خلائی جہاز کے ذریعے زمین پر واپس آئے گا۔
چینی حکام کے مطابق یہ چین کے انسانی خلائی پروگرام کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب چینی اور غیر ملکی خلا باز مشترکہ طور پر خلائی پرواز میں حصہ لیں گے۔ پاکستانی خلا باز اس مشن میں سائنسی پے لوڈ اسپیشلسٹ کی حیثیت سے فرائض انجام دے گا اور خلائی اسٹیشن پر مختلف سائنسی سرگرمیوں میں حصہ لے گا۔
دو پاکستانیوں میں سے ایک کا انتخاب
پاکستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کے لیے دو امیدواروں محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو منتخب کیا گیا تھا۔ دونوں نے چین کے خلا باز تربیتی مرکز میں تربیت اور مختلف جائزوں میں حصہ لیا۔
چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے مطابق امیدواروں کے انتخاب کے لیے ابتدائی جانچ، ثانوی جائزے اور حتمی انتخاب سمیت تین مراحل مکمل کیے گئے۔ دونوں امیدواروں کی تربیت اور صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے بعد ایک خلا باز کو اصل مشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے امیدوار کا کردار متبادل خلا باز کا ہوگا۔
تاہم چین نے تاحال مشن پر جانے والے پاکستانی خلا باز کا نام باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کیا۔
پاک چین خلائی تعاون کا آغاز کب ہوا؟
پاکستان اور چین کے درمیان اس تاریخی مشن کی بنیاد 28 فروری 2025 کو رکھی گئی تھی، جب پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو اور چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے درمیان پاکستانی خلا باز کو چین کے خلائی اسٹیشن بھیجنے کے لیے تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔
اس معاہدے کے تحت دو پاکستانی امیدواروں کو چین میں خلا باز کی خصوصی تربیت فراہم کرنے اور ان میں سے ایک کو خلائی مشن کے لیے منتخب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
بعد ازاں فروری 2026 میں انتخابی عمل کے مزید مراحل مکمل ہوئے اور اپریل 2026 میں چین نے محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو اپنے خلائی پروگرام کی تربیت کے لیے منتخب کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان کے لیے اس مشن کی اہمیت کیا ہے؟
یہ مشن پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ اس کے ذریعے پاکستانی ماہر کو نہ صرف خلائی سفر کا عملی تجربہ حاصل ہوگا بلکہ مائیکرو گریویٹی یعنی کم کششِ ثقل کے ماحول میں سائنسی تحقیق کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
خلائی تحقیق میں حیاتیات، میٹریل سائنس، طب، فلوئڈ ڈائنامکس اور خلائی تابکاری جیسے شعبے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نوعیت کے تجربات مستقبل میں سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی، تکنیکی اور خلائی تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔
پاکستانی خلا باز کب روانہ ہوگا؟
چینی خلائی ادارے نے شینژو-24 مشن کے ذریعے پاکستانی خلا باز کی شمولیت کی تصدیق کی ہے، تاہم روانگی کی حتمی تاریخ اور منتخب پاکستانی خلا باز کا نام تاحال سامنے نہیں آیا۔
اس تاریخی مشن کے ساتھ پاکستان ان ممالک میں شامل ہونے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا رہا ہے جن کے شہری انسانی خلائی پرواز میں حصہ لے چکے ہیں۔


