اہم ترین

’شکریہ مسٹر عمران خان آپ کی طرف سے اچھی معاونت ملی‘

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عدالتی کاروائی کے اختتام پر چیف جسٹس نے کہا ’شکریہ مسٹر عمران خان آپ کی طرف سے اچھی معاونت ملی‘۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اپیلوں پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر عمران خان نے کہا کہ وہ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیلوں کی مخالفت کرتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا۔ مجھے 14 سال کی قید ہوگئی کہ میں نے توشہ خانہ کے تحفے کی قیمت کم لگائی۔ دو کروڑ روپے کی میری گھڑی تین ارب روپے میں دکھائی گئی۔

عمران خان نے مزید کہا کہ میں کہتا ہوں نیب کا چیٸرمین سپریم کورٹ تعینات کرے۔ حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتا ہے۔ نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتا ہے۔ نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا۔

دوران سماعت عمران خان نے کہا کہ ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ غیرذمہ دار ہیں اس لیے لائیو اسٹریمنگ نہیں دکھائی جاسکتی۔ کہا گیا میں نے پوائنٹ اسکورنگ کی۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں میں نے پوائنٹ سکورنگ کی؟۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کا فیصلہ ہوچکا، ججز اپنے فیصلوں کی وضاحت نہیں کرتے۔ اس پر آپ نظر ثانی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے یا نہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ فارم 47 والے ترمیم نہیں کر سکتے۔ جواب پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وہ دوبارہ زیر التوا کیسز کی جانب جا رہے ہیں۔

عمران خان کی جانب سے خود کو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ کیا گیا تو جسٹس امین الدین خان نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’خان صاحب آپ کو غیر ضروری ریلیف ملا۔ آپ صرف کیس پر رہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عمران خان صاحب! ان ترامیم کو کالعدم کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہےگا؟جواب میں عمران خان نے کہ میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا۔ 27 سال پہلے بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا۔

سپریم کورٹ نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سماعت کے اختتام پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شکریہ مسٹر عمران خان آپ کی طرف سے اچھی معاونت ملی۔ جس پر اس پر عمران خان نے مسکراتے ہوئے تھینک یو کہا۔

پاکستان