انسانی شور شرابے سے پرندوں کی افزائش نسل خطرے سے دوچار : عالمی تحقیق

ایک نئی عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شور کی آلودگی دنیا بھر میں پرندوں کے رویّے، افزائشِ نسل اور بقا کو شدید طور پر متاثر کر رہی ہے۔ سائنسی تجزیے کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا شور نہ صرف پرندوں کی آوازوں اور میل جول میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ ان کی خوراک تلاش کرنے اور شکاریوں سے بچنے کی صلاحیت بھی کمزور کر دیتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق سائنس دانوں نے تقریباً چار دہائیوں پر محیط 1990 سے اب تک کی تحقیقی رپورٹس کا جائزہ لیا، جن میں 160 پرندوں کی اقسام سے متعلق ڈیٹا شامل تھا۔

پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی نامی جریدے میں شائع تحقیق میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ صوتی آلودگی (بے ہنگم شور شرابا)کا اثر دنیا کے چھ براعظموں میں پرندوں پر پڑ رہا ہے اور اس کے نتائج نہایت منفی ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پرندے اپنی بقا کے لیے آوازوں پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ گیتوں کے ذریعے ساتھی تلاش کرتے ہیں، آوازوں سے خطرے کی اطلاع دیتے ہیں اور بچے والدین کو بھوک کا احساس دلاتے ہیں۔ ایسے میں ٹریفک، ہوائی جہازوں، مشینری اور شہری زندگی کا شور ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

تحقیق کی سربراہ نیٹلی میڈن کے مطابق شور کی وجہ سے بعض پرندوں میں ملاپ کی نمائش متاثر ہوئی، کچھ نر پرندوں کو اپنے گیت بدلنے پڑے، جبکہ کئی جگہ بچوں اور والدین کے درمیان پیغامات دب گئے۔

مطالعے سے یہ بھی پتا چلا کہ زمین کے قریب گھونسلے بنانے والے پرندوں کو افزائشِ نسل میں زیادہ نقصان پہنچا، جبکہ کھلے گھونسلوں والے پرندوں کی نشوونما زیادہ متاثر ہوئی۔ شہری علاقوں میں رہنے والے پرندوں میں تناؤ کے ہارمونز کی سطح بھی دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شور کی آلودگی فطرت پر انسانی اثرات کا ایک ایسا پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ حیاتیاتی تنوع میں کمی اور ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ مل کر سنگین نتائج پیدا کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت (آئی یو سی این) کے مطابق، دنیا بھر میں 61 فیصد پرندوں کی اقسام کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

تحقیق کے سینیئر مصنف نیل کارٹر نے کہا کہ صوتی آلودگی کم کرنے کے حل موجود ہیں، بس اس کے لیے شعور اور سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے۔