اُدت نارائن پر سابق اہلیہ کا الزام: بغیر اجازت علاج کے نام پر رحم نکلوانے کا دعویٰ

بھارت کے مشہور پلے بیک سنگر اُدت نارائن ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کی ذاتی زندگی سے جڑا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔ ان کی پہلی اہلیہ رنجنا نارائن جھا نے بہار کے ضلع سپول کے خواتین تھانے میں اُدت نارائن، ان کے دو بھائیوں اور دوسری اہلیہ کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی ہے۔

رنجنا نارائن جھا کا الزام ہے کہ علاج کے بہانے ان کا رحم (بچّہ دانی) ان کی اجازت اور اطلاع کے بغیر نکلوا دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ ایک منظم سازش تھی، جس کے بارے میں انہیں کافی عرصے بعد اس وقت معلوم ہوا جب وہ کسی اور طبی مسئلے کے باعث دوبارہ اسپتال گئیں۔

شکایت میں رنجنا نے بتایا کہ ان کی شادی اُدت نارائن سے 7 دسمبر 1984 کو مذہبی رسومات کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد اُدت نارائن اپنے کریئر کے لیے ممبئی چلے گئے، جس کے بعد دونوں کے درمیان دوریاں بڑھتی گئیں۔ بعد ازاں رنجنا کو میڈیا رپورٹس کے ذریعے معلوم ہوا کہ اُدت نارائن نے دوسری شادی کر لی ہے، تاہم اس بارے میں سوال کرنے پر انہیں کوئی واضح جواب نہیں ملا۔

رنجنا جھا نے اپنی درخواست میں ذہنی و جسمانی اذیت، وعدہ خلافی اور استحصال جیسے الزامات بھی لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1996 میں انہیں دہلی کے ایک بڑے اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ یہ مبینہ دھوکہ ہوا، جس نے انہیں زندگی بھر کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا۔

بیماری اور مالی تنگی سے پریشان رنجنا جھا نے انصاف کی امید میں پولیس سے رجوع کیا ہے۔ فی الحال اس معاملے پر اُدت نارائن کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔