اہم ترین

خلیج میں امریکی اڈے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرہ: ایران پارلیمنٹ اسپیکر

ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی اڈے کسی کی حفاظت نہیں کرتے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا خطے میں صرف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور دیگر ممالک کی سلامتی کی پروا نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ “جو کوئی بھی امریکا کے سائے میں رہتا ہے وہ درحقیقت بے لباس ہے۔”

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان سردار نائینی نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں کی شاخوں پر ہونے والے حملے دراصل امریکا کی جانب سے دو ایرانی بینکوں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سردار نائینی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ اس نوعیت کی کارروائی کی تو خطے میں موجود تمام امریکی بینک ایران کے لیے جائز ہدف ہوں گے۔

ادھر دبئی کے دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے علاقے میں لگاتار دو حملوں کے بعد وہاں موجود بڑے امریکی مالیاتی اداروں میں تشویش پھیل گئی ہے۔

صورتحال کے پیش نظر سٹی گروپ اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت کئی بینکوں نے اپنے دفاتر خالی کرا کے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

اسی دوران ایچ ایس بی سی نے قطر میں اپنی شاخیں عارضی طور پر بند کرتے ہوئے خطے میں اپنے عملے کے لیے ریموٹ ورکنگ پالیسی نافذ کر دی ہے۔ ان واقعات کے بعد خلیجی مالیاتی مراکز میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں اور کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان