امریکا میں ایک متنازع اقدام کے تحت صدر ٹرمپ کی شبیہہ پر مبنی سونے کے یادگاری سکے کے ڈیزائن کی منظوری دے دی گئی ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اےایف پی کے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے قیام کی 250ویں سالگرہ کی مناسبت سے حکومت نے ایک یادگاری سکہ جاری کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔اس سکے کے ڈیزائن کی حمتی منظوری دےدی گئی ہے۔
یہ ڈیزائن یو ایس کمیشن آف فائن آرٹس نے منظور کیا، جس کے ارکان کو ٹرمپ نے گزشتہ سال تبدیل کر کے اپنی مرضی سے مقرر کیا تھا۔
اس یادگاری کے ایک رخ پر ٹرمپ کی شبیہہ جبکہ دوسرے رخ پر ایک عقاب کو گھنٹی کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جو امریکی علامتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ سکے عام کرنسی کے طور پر استعمال نہیں کیے جائیں گے، تاہم ان کی قیمت ایک ہزار ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کے مخالف ڈیموکریٹک رہنماؤں اور ناقدین نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے مخالفین کا کہنا ہے کہ جمہوری ممالک میں برسرِ اقتدار رہنما کی تصویر سکے پر نہیں لگائی جاتی، یہ روایت زیادہ تر بادشاہت یا آمریت میں دیکھی جاتی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ حکومتی اداروں اور ثقافتی منصوبوں میں بھی بڑی تبدیلیاں کر رہے ہیں، جن میں وائٹ ہاؤس کی توسیع اور کینیڈی سینٹر کی تزئین و آرائش شامل ہے۔










