افریقا میں عدم سہولیات اور پسماندگی کی وجہ سے خواتین کی اکثریت کسمپرسی کا شکار ہیں لیکن مشرقی یوگینڈا کے ضلع جنجا میں ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں بزرگ خواتین کرکٹ کھیل کر نہ صرف اپنی صحت بہتر بنا رہی ہیں بلکہ زندگی میں خوشیوں کا نیا باب بھی رقم کر رہی ہیں۔
یہ خواتین، جن کی عمریں 50 سے 90 سال کے درمیان ہیں، ہر ہفتے ایک میدان میں جمع ہو کر بیٹ اور بال کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر نے پہلے کبھی کرکٹ نہیں کھیلی تھی، مگر اب یہ کھیل ان کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
جینیفر وائیبی نانیونگا کی عمر 72 سال ہے۔ ان کے مطابق کرکٹ کھیلنے سے ان کے جسمانی مسائل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پہلے ٹانگوں اور کمر میں درد رہتا تھا، لیکن اب کافی بہتری آ گئی ہے اور ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت بھی کم پڑی ہے۔
ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمی کی کمی کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، اور اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف صحت بہتر کرتی ہیں بلکہ عمر رسیدہ افراد کو فعال بھی رکھتی ہیں۔
یہ پروگرام صرف جسمانی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ اس نے خواتین کے درمیان ایک مضبوط سماجی رشتہ بھی قائم کیا ہے۔
ایک خاتون کے مطابق گھر میں انسان اکیلا رہتا ہے، لیکن یہاں آ کر دوستوں سے ملتے ہیں، باتیں کرتے ہیں اور دل ہلکا ہو جاتا ہے۔
یہ ہفتہ وار ملاقاتیں ان خواتین کے لیے ذہنی سکون اور نئی توانائی کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
یہ اقدام 2025 میں ایک چھوٹے سے گاؤں سے صرف 10 خواتین کے ساتھ شروع ہوا تھا، جسے نوجوان کوچ ایرون کُسیسیرا نے متعارف کروایا۔
ابتدائی طور پر یہ پروگرام بچوں کے لیے تھا، لیکن جب معلوم ہوا کہ بزرگ افراد کھیل کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہے، تو انہیں بھی شامل کر لیا گیا۔
آج یہ پروگرام کئی گنا بڑھ چکا ہے اور مقامی کمیونٹی میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے۔
یوگنڈا کی یہ کرکٹ گرینیز اس بات کی مثال ہیں کہ عمر کبھی بھی سرگرمی، سیکھنے اور خوش رہنے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
یہ کہانی نہ صرف کھیل کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ کمیونٹی اور ساتھ مل کر جینے کا جذبہ زندگی کو کس طرح بدل سکتا ہے۔










