امریکا کے شہر لاس اینجلس میں جاری سوشل میڈیا لت سے متعلق اہم مقدمے میں جیوری کے ایک سوال نے عندیہ دیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میٹا پلیٹ فارمز اور یوٹیوب کو ممکنہ طور پر ہرجانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق جیوری نے مقدمے کے دوران جج سے ہرجانے کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق سوال کیا، جسے ماہرین اس بات کا اشارہ قرار دے رہے ہیں کہ جیوری اس نتیجے پر پہنچ سکتی ہے کہ متعلقہ پلیٹ فارمز کے ڈیزائن یا پالیسیوں نے صارف کو نقصان پہنچایا۔
یہ مقدمہ ایک 20 سالہ امریکی خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جس نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ کم عمری میں انسٹاگرام اور یوٹیوب کے استعمال کی عادی ہو گئی تھی، جس کے باعث اسے ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
مقدمے کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ خاتون کو بچپن میں خاندانی مسائل، نظرانداز کیے جانے اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل کا بھی سامنا رہا، جس کی بنیاد پر دفاعی وکلا کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا کو مکمل طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
عدالت کے سامنے موجود سوالنامے میں جیوری کو یہ طے کرنا ہے کہ آیا میٹا پلیٹ فارمز یا یو ٹیوب کو اپنے پلیٹ فارمز کے ممکنہ نقصانات کا علم ہونا چاہیے تھا، اور کیا ان کا ڈیزائن ایسا تھا جو کم عمر صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر جیوری اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ پلیٹ فارمز کا ڈیزائن صارفین کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے اور مواد کی مسلسل فراہمی کے لیے بنایا گیا تھا، تو اسے غفلت یا نقصان دہ ڈیزائن قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں کمپنیوں کو صارفین کے مواد کے بجائے اپنے پروڈکٹ ڈیزائن کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ماضی میں ٹیک کمپنیاں امریکی قانون کے تحت صارفین کے مواد کی ذمہ داری سے بڑی حد تک محفوظ رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ امریکہ بھر میں جاری ایسے سینکڑوں مقدمات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوجوانوں میں ڈپریشن، بے چینی اور دیگر ذہنی مسائل بڑھانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یونیورسٹی ماہرین کے مطابق یہ کیس سوشل میڈیا کمپنیوں اور کم عمر صارفین کے درمیان ایک اہم کشمکش کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایک طرف کاروباری مفادات ہیں تو دوسری جانب صارفین کی ذہنی صحت کا مسئلہ۔
عدالت میں سماعت پیر کو دوبارہ شروع ہوگی جبکہ والدین، ماہرین اور ٹیکنالوجی انڈسٹری سب کی نظریں اس مقدمے کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں، جو مستقبل میں سوشل میڈیا کے ضوابط اور پالیسیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔










