اہم ترین

امریکا کا ایرانی تیل سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان

امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف عائد تیل پابندیوں میں عارضی نرمی کرتے ہوئے سمندر میں موجود ایرانی تیل کی خریداری کی 30 روزہ اجازت دے دی ہے۔ یہ اقدام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی منڈی میں شامل ہو سکے گا، جس سے توانائی کی فراہمی پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی صارفین اور کاروباروں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر آئندہ انتخابات سے قبل۔

محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری لائسنس کے مطابق یہ رعایت صرف ان کھیپوں تک محدود ہوگی جو پہلے ہی بحری جہازوں میں لدی ہوئی ہیں، اور اس کا اطلاق 19 اپریل تک رہے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے ایرانی تیل کی درآمد تقریباً بند کر رکھی ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ آیا اس رعایت کے تحت کوئی تیل امریکہ پہنچے گا یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ ایشیائی ممالک کو ہو سکتا ہے، جہاں پہلے بھی ایرانی تیل بڑی مقدار میں خریدا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر چین کے نجی ریفائنری ادارے رعایتی نرخوں پر ایرانی تیل خریدتے رہے ہیں۔

یہ اقدام حالیہ دنوں میں تیسری مرتبہ ہے جب امریکی حکومت نے توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے پابندیوں میں عارضی نرمی کی ہے۔ اس سے قبل روسی تیل کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کی رعایت دی جا چکی ہے۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحری آمد و رفت کے لیے کھل نہیں جاتی، اس قسم کے اقدامات کا اثر محدود ہی رہے گا۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف پابندیوں میں نرمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کے پاس قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس رعایت کے باوجود ایران کو حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی محدود رکھی جائے گی اور اس کے مالیاتی نظام پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

پاکستان