ٹیکنالوجی کی ترقی یا رکاوٹ؟ اے آئی بوم نے اربوں افراد کو پیچھے دھکیل دیا

جاپان کے دارالحکومت توکیو میں ٹیلی کام انڈسٹری کی عالمی تنظیم جی ایس ایم اے کے سربراہ وویک بدری ناتھ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے باعث میموری چِپس کی عالمی قلت دنیا بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کو سست کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2025 میں دنیا کی تقریباً 2.2 ارب افراد یعنی عالمی آبادی کا ایک چوتھائی اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں، حالانکہ صرف 4 فیصد لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں موبائل انٹرنیٹ دستیاب ہی نہیں۔

ویوک بدریناتھ کے مطابق اصل مسئلہ رسائی نہیں بلکہ اسمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو چِپس کی کمی کے باعث مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، خاص طور پر افریقہ میں جہاں کم قیمت فونز کی دستیابی کم ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی مانگ نے ہائی بینڈوڈتھ میموری چِپس کی طلب میں اضافہ کر دیا ہے۔ چِپ بنانے والی کمپنیاں زیادہ منافع بخش اے آئی سیکٹر کو ترجیح دے رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عام صارفین کے لیے استعمال ہونے والے چِپس کی پیداوار کم ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر دنیا بھر میں تمام افراد کو موبائل انٹرنیٹ تک رسائی مل جائے تو دہائی کے اختتام تک عالمی معیشت میں 3.5 ٹریلین ڈالر تک اضافہ ممکن ہے۔

دوسری جانب سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورکس، جیسے کہ ایمیزون کے منصوبے اور اسٹار لنک، مستقبل میں دور دراز علاقوں کو آن لائن لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم بدریناتھ کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ زیادہ تر معاون کردار ادا کرے گا کیونکہ یہ گھروں کے اندر مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پرائیویسی اور قانونی ضوابط سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔

جی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومتوں، صنعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جس میں ٹیکس میں کمی، فنانسنگ اور اسمارٹ فون ری سائیکلنگ جیسے اقدامات شامل ہیں۔