پاکستانی اوپنر صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شاندار کارکردگی سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں وہ 2025 کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے اور سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بیٹر بن چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، قومی ٹیم میں واپسی کے بعد انہوں نے ٹی 20 انٹرنیشنلز میں 140.92 کے اسٹرائیک ریٹ اور35.85 کی اوسط سے 1219 رنز اسکور کیے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے ایک T20 ورلڈ کپ میں 383 رنز بنا کر ریکارڈ قائم کیا، جس میں دو سنچریاں بھی شامل تھیں۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ان کی کارکردگی غیر معمولی رہی۔ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں انہوں نے 605 رنز 121 کی اوسط اور تقریباً 190 کے اسٹرائیک ریٹ سے بنائے۔
کرک انفو کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں وہ اپنی پرفارمنس اور خاص طور پر اسٹرائیک ریٹ کے بارے میں زیادہ سوچتے تھے، جس کا منفی اثر ان کے کھیل پر پڑتا تھا، لیکن اب انہوں نے ذہنی طور پر خود کو آزاد کر لیا ہے اور کھیل سے لطف لینا شروع کیا ہے، جس سے نتائج بہتر ہوئے ہیں۔
صاحبزادہ فرحان کے مطابق ان کی بہتری میں ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کا اہم کردار رہا ہے، جنہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ صرف زیادہ رنز بنانے کے بجائے اسٹرائیک ریٹ اور جارحانہ کھیل پر بھی توجہ دیں۔
انہوں نے بتایا کہ سابق کرکٹر افتخار احمد نے ان سے صاف گفتگو کی تھی اور کہا تھا کہ بطور اوپنر 132 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیلنا کافی نہیں ہوگا، اگرچہ اس وقت انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔
صاحبزادہ فرحان کے مطابق ابتدا میں انہیں یہ تنقید عجیب لگی کیونکہ وہ مختلف ٹورنامنٹس میں زیادہ رنز بنا رہے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے اس بات کی اہمیت کو سمجھا اور اپنے کھیل میں بہتری لانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کوچز نے بھی انہیں مشورہ دیا کہ وہ اسٹرائیک ریٹ کو 140 سے اوپر لے جانے پر توجہ دیں، جس کے بعد انہوں نے پاور ہٹنگ اور جارحانہ بیٹنگ پر خصوصی محنت شروع کی۔
ان کے مطابق اس تبدیلی کے بعد انہوں نے اپنی بیٹنگ اسٹائل بدل دی، نیٹ سیشنز میں مختلف گیندوں پر شاٹس کی پریکٹس شروع کی اور چھکے لگانے کی صلاحیت کو بہتر بنایا۔
صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ اب وہ ہر ٹورنامنٹ میں زیادہ چھکے لگانے اور بہتر اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیلنے پر فوکس کرتے ہیں، جبکہ اسٹرائیک روٹیشن پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ڈاٹ بالز کم ہوں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تنقید کو منفی لینے کے بجائے اسے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اور ان کا اصول یہی ہے کہ “بلے سے جواب دینا” سب سے بہتر راستہ ہے۔


