فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باوجود ایران کی ٹیم 2026 کے ورلڈ کپ میں یقینی طور پر شرکت کرے گی۔
واشنگٹن میں اقتصادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جیانی انفینٹینو نے کہا کہ ایران کی ٹیم اپنے عوام کی نمائندگی کرتی ہے، انہوں نے کوالیفائی کیا ہے اور کھلاڑی کھیلنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے اور فیفا کا کام ملکوں کے درمیان پل بنانا اور انہیں جوڑے رکھنا ہے۔
ایران کی شرکت اس لیے بھی زیرِ بحث تھی کیونکہ ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کر رہے ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل ازیں اشارہ دیا تھا کہ ایرانی کھلاڑی امریکا میں “محفوظ” نہیں ہوں گے، تاہم فیفا صدر نے واضح کیا کہ ایران اپنے تمام میچز طے شدہ شیڈول کے مطابق امریکا ہی میں کھیلے گا۔
ایران گروپ جی میں شامل ہے اور اسے اپنے تینوں میچز امریکا کے شہروں لاس اینجلس اور سیئٹل میں کھیلنے ہیں۔ ایران نے قبل ازیں اپنے میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جسے فیفا نے مسترد کر دیا تھا۔ خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ ناکہ بندیوں کے باعث ایران کے بائیکاٹ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، لیکن فیفا صدر کے بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔
تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ جس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، 11 جون 2026 سے شروع ہوگا۔ ایران کی ٹیم نے اپنی بیس ریاست ایریزونا کے شہر ٹوسان میں قائم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ فیفا صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز تک خطے کی صورتحال مزید پرامن ہو جائے گی۔


