مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور فلپائن نے اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں، جس میں پہلی مرتبہ جاپان کی بڑی فوجی شرکت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اےایف پی کے مطابق بالی کاتان کےنام سے منعقدہ ان 19 روزہ فوجی مشقوں میں تقریباً 17 ہزار سے زائد فوجی اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جن میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس اور کینیڈا کے دستے بھی شامل ہیں۔ ان مشقوں کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔
یہ جنگی مشقیں فلپائن کے شمالی علاقوں میں کی جا رہی ہیں، جو آبنائے تائیوان کے قریب واقع ہیں، جبکہ کچھ سرگرمیاں متنازع جنوبی بحیریہ چین کے اطراف بھی ہوں گی—جہاں فلپائن اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
جاپانی افواج اس مشق میں تقریباً 1400 اہلکاروں کے ساتھ شریک ہیں اور وہ جدید “Type 88” کروز میزائل کے ذریعے سمندر میں ہدف کو نشانہ بنانے کی مشق کریں گے۔ دوسری جانب امریکی فوج جدید ہتھیاروں جیسے ٹوم ہاک اور اینٹی شپ میزائل سسٹمز کے استعمال کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ ڈرونز کے خلاف دفاعی نظام بھی آزمائے جائیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ مشقیں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اتحاد کا مظاہرہ ہیں اور اس بات کا پیغام دیتی ہیں کہ انڈو پیسیفک خطے کو آزاد اور محفوظ رکھنے کے لیے وہ پرعزم ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ نے عالمی سطح پر توانائی بحران کو جنم دیا ہے، جبکہ چین کی جانب سے تائیوان کے گرد بڑھتا ہوا فوجی دباؤ بھی خطے کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر تائیوان کے معاملے پر جنگ چھڑتی ہے تو فلپائن بھی اس تنازع میں گھسیٹا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ جنگی مشقیں نہ صرف دفاعی تیاری کا حصہ ہیں بلکہ چین کو ایک واضح پیغام بھی ہیں کہ خطے میں مغربی اتحاد مضبوط ہو رہا ہے۔


