دنیا بھر کے 50 سے زائد ممالک اگلے ہفتے ایک تاریخی کانفرنس میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد فوسل فیول (تیل، گیس اور کوئلہ) کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کرنا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی عالمی کانفرنس ہے، جو توانائی اور ماحولیاتی بحران کے پس منظر میں منعقد ہو رہی ہے۔
کولمبیا کے شہر سانتامارتا میں ہونے والا یہ اہم اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران نے کئی ممالک کو دوبارہ کوئلے اور دیگر روایتی ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ حالیہ بحران تاریخ کے سب سے بڑے تیل سپلائی جھٹکوں میں سے ایک ہے۔
کولمبیا اور نیدرلینڈز کی مشترکہ میزبانی میں 28 اور 29 اپریل کو ہونے والی اس کانفرنس میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس سمیت دنیا کے 50سے زائد ملکوں کے وزراء اور نمائندے شرکت کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ تاہم امریکا، چین، سعودی عرب اور روس جیسے بڑے ممالک شریک نہیں ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہٹ کر ایک ایسا فورم بنانا ہے جہاں ممالک کھل کر فوسل فیول کے خاتمے پر بات کر سکیں۔ اس سے پہلے کوپ 28 میں تقریباً 200 ممالک نے فوسل فیول سے دور جانے پر اتفاق کیا تھا، مگر عملی اقدامات پر اب تک پیش رفت سست رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ دنیا میں صاف توانائی پر سرمایہ کاری فوسل فیول کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہو چکی ہے، لیکن 2025 میں کاربن اخراج ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا،جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا ابھی بھی تیل، گیس اور کوئلے پر بہت زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کا براہ راست سامنا کرنے والے جزائر پر مشتمل چھوٹے ممالک نے اس کانفرنس کو امید کی کرن قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کانفرنس سے فوری بڑے اعلانات کی توقع نہیں، مگر یہ مستقبل میں فوسل فیول کے خاتمے کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ اجلاس اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا اب توانائی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں ماحول کو بچانے اور توانائی کی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔


