فرانس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) کے حوالے سے جاری تحقیقات میں ایلون مسک کو رضاکارانہ انٹرویو کے لیے طلب کر لیا ہے۔
اےایف پی کے مطابق ایکس کا الگورتھم فرانسیسی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال ہونے کے معاملے کی جنوری 2025 میں تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ بعد ازاں اس تحقیقات کا دائرہ بڑھا کر گروک تک پھیلا دیا گیا، جس پر ہولوکاسٹ سے انکار اور جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر (ڈیپ فیک) پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں۔
رواں برس فروری میں فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے پیرس میں ایکس کے دفاتر پر چھاپہ بھی مارا، جسے کمپنی نے سیاسی اور ناجائز کارروائی قرار دیا۔
اسی دوران مسک اور سابق سی ای او لنڈا یاکارینو کو بھی طلب کیا گیا، جنہیں اس وقت کمپنی کے ذمہ داران سمجھا جاتا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا پلیٹ فارم پر بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد رکھنے یا انسانیت کے خلاف جرائم کے انکار میں کوئی معاونت ہوئی یا نہیں۔
دوسری جانب سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ نامی بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہےکہ ایلون مسک ہی کی کمپنی اےآئی چیٹ بوٹ گروک نے صرف 11 دنوں میں تقریباً 30 لاکھ جنسی نوعیت کی تصاویر تیار کیں، جن میں ہزاروں ایسی تصاویر بھی شامل تھیں جو بچوں سے متعلق معلوم ہوتی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد نہ صرف فرانس بلکہ برطانیہ اور یورپی یونین نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
برطانیہ کے ڈیٹا ریگولیٹر اور یورپی یونین نے بھی ایکس اے ائی اور ایکس کے خلاف ڈیٹا کے غلط استعمال اور ڈیپ فیک مواد کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔
دوسری جانب ایکس کمپنی مسلسل ان الزامات کی تردید کر رہی ہے اور اسے سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔


