خلائی ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت: استعمال شدہ بوسٹر کے ساتھ راکٹ لانچ

ایمیزون کے مالک جیف بیزوس کی خلائی تحقیق سے متعلق کمپنی بیلو اوریجن نے خلائی میدان میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار اپنے طاقتور نیو گلین راکٹ کو استعمال شدہ بوسٹر کے ساتھ کامیابی سے لانچ کر دیا۔ یہ پیش رفت خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں کم لاگت اور زیادہ تیزی سے راکٹ لانچ ممکن بنا سکتی ہے۔

اےایف پی کے مطابق خلا میں راکٹ بھیجنے اور ناسا کے چاند مشن آرٹیمس کے لئے جیف بیزوس کی بلیو اوریجن اور ایلون مسک کی اسپیس ایکس کے درمیان مقابلہ سخت ہوچکا ہے۔۔

بلیو اوریجن نے نیو گلین راکٹ کی استعمال شدہ بوسٹر کے ساتھ لانچنگ امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقے کیپ کیناورل سے کی۔

نیو گلین راکٹ نے سطح سمندر سے 98 میٹر بلند اڑان بھری۔ پرواز کے تقریباً 9 منٹ بعد اس کا بوسٹر کامیابی کے ساتھ بحرِ اوقیانوس میں موجود ایک فلوٹنگ پلیٹ فارم پر لینڈ کر گیا۔

تاہم، اس مشن کو مکمل کامیابی حاصل نہ ہو سکی کیونکہ راکٹ کے ذریعے بھیجا گیا سیٹلائٹ مطلوبہ مدار میں نہیں پہنچ سکا۔

کمپنی کے مطابق سیٹلائٹ نے کام تو شروع کر دیا، مگر وہ غیر متوقع مدار میں چلا گیا ہے، اس مسئلے کی تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بلیو اوریجن نے اس سے قبل اپنے چھوٹے راکٹ نیو شیپرڈ میں استعمال شدہ پرزوں کا استعمال کیا تھا، لیکن نیو گلین جیسے بڑے اور پیچیدہ راکٹ میں یہ پہلا تجربہ تھا۔

یہ کامیابی ناسا کے آرٹیمس پروگرام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں امریکا 2028 تک دوبارہ انسان کو چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بلیو اوریجن اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلائی صنعت میں ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، جس میں لاگت کم اور رفتار زیادہ ہوگی۔