اہم ترین

جنگ بندی میں توسیع کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران نے 2 جہاز تحویل میں لےلئے

آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دو غیر ملکی جہازوں کو تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ خطے میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس کی بحریہ نے بدھ کی صبح آبنائے ہرمز میں “خلاف ورزی” کرنے والے دو جہازوں کی نشاندہی کر کے انہیں روک لیا اور بعد ازاں ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا۔ حکام نے ان جہازوں کی شناخت پاناما کے پرچم بردار کنٹینر شپ “ایم ایس این فرانسسکا” اور لائبیریا کے پرچم بردار “ایپامینوداس” کے طور پر کی۔

آبنائے ہرمزعالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اسی وجہ سے یہاں ایران اور امریکہ کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش جاری رہتی ہے۔

دوسری جانب برطانیہ میں قائم میری ٹائم سیکیورٹی اداروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ کم از کم تین تجارتی جہازوں نے ایرانی گن بوٹس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اطلاع دی۔ ایک واقعے میں ایک کنٹینر جہاز کو عمان کے شمال مشرق میں نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے برج کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی طرح ایک اور واقعے میں تیسرے جہاز کو فائرنگ کے بعد ایرانی ساحل کے قریب روک لیا گیا۔ سیکیورٹی فرموں کے مطابق اس جہاز کی شناخت “یوپوریا” کے نام سے ہوئی ہے، جو آبنائے سے باہر کی جانب سفر کر رہا تھا۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپنے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل کیا جا سکے۔

ادھر امریکی بحریہ بھی خطے میں سرگرم ہے اور ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی نگرانی اور بعض اوقات روکنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ خلیج میں داخل یا باہر جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے اس کی اجازت درکار ہوگی۔

پاکستان