اہم ترین

الیکٹرک گاڑیوں میں چینی کمپنیوں کا راج، جاپانی و جرمن برانڈز پیچھے رہ گئے

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دنیا کی سب سے بڑی آٹو نمائش کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جہاں ایک بار پھر چینی کمپنیوں نے اپنی برتری ثابت کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس 10 روزہ ایونٹ میں درجنوں عالمی اور مقامی کار ساز کمپنیاں اپنی جدید ترین گاڑیاں پیش کریں گی، مگر اصل توجہ چینی الیکٹرک وہیکلز (ای ویز) پر مرکوز ہے۔

کبھی چینی مارکیٹ پر راج کرنے والی کمپنیاں جیسے فاکس ویگن، ٹویوٹا اور بی ایم ڈبلیو اب شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مقامی چینی کمپنیوں نے نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ میں سبقت حاصل کی بلکہ کم قیمت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کو اپنی جانب کھینچ لیا۔

خاص طور پر بی وائے ڈی، ایکس پینگ اور ژیاؤ می جیسی کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے ائی)، خودکار ڈرائیونگ اور جدید سافٹ ویئر فیچرز کے ذریعے آٹو انڈسٹری میں انقلاب برپا کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب مقابلہ صرف گاڑی کے ڈیزائن یا برانڈ تک محدود نہیں رہا بلکہ “سافٹ ویئر، رفتار اور ایکو سسٹم” اصل جنگ کا میدان بن چکے ہیں۔ اسی تبدیلی نے غیر ملکی کمپنیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے، جنہوں نے مقامی مارکیٹ کے مطابق خود کو ڈھالنے میں تاخیر کی۔

اعداد و شمار بھی یہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ مرسڈیز بینز کی چین میں فروخت گزشتہ سال 19 فیصد گر گئی، جبکہ بی ایم ڈبلیو کی فروخت ز 2017 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ دوسری جانب فاکس ویگن کو نہ صرف چین بلکہ اپنے ہوم مارکیٹ میں بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں اب چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری پر مجبور ہو گئی ہیں۔ مثال کے طور پر بی ایم ڈبلیو نے بیٹری بنانے والی کمپنی سی اے ٹی ایل کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جبکہ آوڈی نے ہواوے کی ڈرائیونگ ٹیکنالوجی اپنانا شروع کر دی ہے۔

چینی کمپنیاں اب صرف مقامی مارکیٹ تک محدود نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ لاطینی امریکا میں ان کا مارکیٹ شیئر تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ یورپ اور مشرق وسطیٰ ان کے اگلے بڑے ہدف ہیں۔

اگرچہ امریکا میں بھاری ٹیرفس ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں، لیکن اس کے باوجود چینی کمپنیاں بیرون ملک پیداوار بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

تاہم اندرونِ ملک ایک سخت “پرائس وار” بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے منافع کم ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر BYD نے 2025 میں ریکارڈ فروخت کے باوجود اپنے منافع میں 19 فیصد کمی دیکھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث اوپر جا رہی ہیں، الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں مزید اضافہ کریں گی—اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ چینی کمپنیوں کو ہی ہوگا۔

مختصراً، عالمی آٹو انڈسٹری کا مرکزِ اب واضح طور پر چین کی طرف منتقل ہو چکا ہے، جہاں مقامی کمپنیاں نہ صرف مارکیٹ پر چھا رہی ہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کی سمت بھی متعین کر رہی ہیں۔

پاکستان