لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کا سراغ لگاتے ہوئے اربوں روپے کے بے نامی اکاؤنٹس کا انکشاف کیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مجموعی طور پر ساڑھے 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے 9 بے نامی اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں، جو دو مختلف بینکوں میں کھولے گئے۔ ان اکاؤنٹس کو مبینہ طور پر عبداللہ مقصود، ارسلان احمد اور مقصود کے ناموں پر کھلوایا گیا، جبکہ اصل کردار مظہر اعجاز بتایا گیا ہے جو ایک بینک میں ریلیشن شپ مینجر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ تمام رقوم ایک بسکٹ بنانے والی کمپنی کی تھیں، جنہیں کمپنی کے آفیشل اکاؤنٹس کے بجائے خفیہ طور پر بے نامی اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق اس عمل کا مقصد مبینہ طور پر ٹیکس چوری کرنا تھا۔
مزید یہ کہ ان اکاؤنٹس کے قیام میں بینک آف پنجاب کے بعض افسران کی ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے، جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم مظہر اعجاز کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ کیس میں بسکٹ کمپنی کے سی ای او شیخ منیر اور ڈائریکٹر عامر رضا کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
میڈیا کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ اس اسکینڈل میں مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز پاکستان کے مالیاتی نظام میں شفافیت اور ٹیکس نیٹ کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔


