اہم ترین

غزہ جنگ بندی معاہدہ سات ماہ بعد بھی تعطل کا شکار

بین الاقوامی امن بورڈ کے اعلیٰ نمائندے نکولائی مالیدینوف نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق سات ماہ گزرنے کے باوجود غزہ کے مستقبل سے متعلق صورتحال اب بھی غیر واضح ہے اور معاہدے کے بنیادی اہداف تاحال پورے نہیں کیے جا سکے۔

یروشلم پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں مالیدینوف نے کہا کہ فلسطینی عوام سے جس بہتر مستقبل کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا، جبکہ اسرائیل کو بھی وہ مکمل سکیورٹی میسر نہیں آ سکی جس کی اسرائیلی عوام توقع کر رہے تھے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ تعطل خطے میں پائیدار امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

گزشتہ برس قائم کیے گئے بین الاقوامی بورڈ کے تحت جنگ بندی کے مرحلہ وار منصوبے پر عملدرآمد ہونا تھا۔ اس منصوبے میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا اور جنگ سے تباہ حال علاقوں کی تعمیر نو شامل تھی، تاہم اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں جس کے باعث پیش رفت محدود رہی۔

مالیدینوف نے واضح کیا کہ عالمی برادری حماس کے سیاسی کردار کے خاتمے کی نہیں بلکہ اس کے ہتھیار ڈالنے کی خواہاں ہے تاکہ خطے میں مستقل استحکام پیدا کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال سے زائد عرصے پر محیط جنگ نے غزہ کو شدید تباہی سے دوچار کیا ہے اور تعمیر نو کے عمل میں مزید تاخیر انسانی بحران کو گہرا کر سکتی ہے۔

امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا، لیکن زمینی حقائق کے باعث اس پر مکمل عملدرآمد اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ مبصرین کے مطابق اگر فریقین نے جلد پیش رفت نہ کی تو خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔

پاکستان