تھائی لینڈ میں سائنسدانوں نے جنوب مشرقی ایشیا کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی شناخت کرلی ہے، جسے خطے کی اہم ترین ماقبل تاریخ دریافت قرار دیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دیوقامت جاندار تقریباً 27 میٹر لمبا اور 27 ٹن وزنی تھا، یعنی اس کا وزن نو بالغ ایشیائی ہاتھیوں کے برابر تھا۔
معروف سائنسی جریدے سائینٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیقی رپورٹ کے مطابق ڈائنوسار ایک طویل گردن رکھنے والا سبزی خور ساروپوڈ تھا۔ نئی دریافت ہونے والی نسل کو نیگیٹائیٹن چائیافومینسس کا نام دیا گیا ہے۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے محقق تھیٹی ووٹ سیتھا پنیچساکُل نے بتایا کہ یہ ڈائنوسار لندن کے مشہور ڈیپی دی ڈپلوڈوکس سے بھی کم از کم 10 ٹن زیادہ وزنی تھا۔ یہ دریافت غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ڈائنوسار تھائی لینڈ کی اُن چٹانوں میں ملا جہاں ڈائنوسارز کے آخری دور کے آثار پائے جاتے ہیں۔
ماہرین نے اسے دی لاسٹ ٹائٹن بھی قرار دیا ہے، کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنوب مشرقی ایشیا میں پائے جانے والے آخری بڑے ساروپوڈ ڈائنوسارز میں سے ایک ہوسکتا ہے۔ بعد ازاں یہ پورا علاقہ سمندر میں تبدیل ہوگیا تھا، جس کے باعث مزید ایسے بڑے ڈائنوسار ملنے کے امکانات کم سمجھے جاتے ہیں۔
یہ باقیات پہلی بار تقریباً ایک دہائی قبل شمال مشرقی تھائی لینڈ کے مقامی افراد کو ملیں، تاہم مکمل کھدائی اور تحقیق کا عمل 2024 میں مکمل ہوا۔ سائنسدانوں کے مطابق دریافت شدہ ہڈیاں پہلے سے معلوم ساروپوڈ نسلوں سے کچھ مشابہت رکھتی تھیں، لیکن ان میں کئی منفرد خصوصیات بھی موجود تھیں، جن کی بنیاد پر اسے نئی نسل قرار دیا گیا۔
ڈائنوسار کا نام جنوب مشرقی ایشیائی لوک داستانوں کے سانپ “ناگا”، یونانی دیو ٹائٹن اور صوبہ چھائیافم کے نام پر رکھا گیا، جہاں اس کے آثار دریافت ہوئے تھے۔
اس دیوقامت ڈائنوسار کا مکمل سائز ماڈل اب تھائینوسار میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، جہاں شائقین اور محققین اس نایاب دریافت کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔


