بنگلا دیش کے سینیئر وکٹ کیپر بیٹر مشفق الرحیم نے کہا ہے کہ بنگلا دیشی ٹیم کو بابر اعظم کے خلاف حکمتِ عملی کا بخوبی علم ہے اور اگر وہ اپنے منصوبے پر درست انداز میں عمل کرنے میں کامیاب رہے تو پاکستانی ٹیم کو دباؤ میں لایا جاسکتا ہے۔
سلہٹ میں دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشفیق الرحیم نے کہا کہ اگرچہ بابر اعظم کی واپسی پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہوگی کیونکہ وہ عالمی معیار کے بیٹر ہیں، تاہم بنگلا دیش ماضی میں بھی ان کے خلاف کامیاب رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم نے پاکستان میں ہمارے خلاف دونوں ٹیسٹ کھیلے تھے لیکن ہم پھر بھی سیریز جیتنے میں کامیاب رہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کہاں بولنگ کرنی ہے اور کس طرح منصوبہ بندی کرنی ہے۔ اگر ہم اس پر صحیح عمل کریں تو نہ صرف بابر بلکہ پوری پاکستانی ٹیم کو دباؤ میں لاسکتے ہیں۔
مشفیق الرحیم نے سلہٹ ٹیسٹ میں متوقع بارش کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید ڈرینیج سسٹم کے باعث میچ کا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ کھلاڑیوں کو بارش سے متاثرہ میچز میں ذہنی طور پر سوئچ آن اور آف رہنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ کھیل کے دوران مکمل توجہ برقرار رکھ سکیں۔
انہوں نے موجودہ بنگلہ دیشی ٹیسٹ ٹیم کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ متوازن اور مستقل مزاج قرار دیتے ہوئے کپتان نجم الحسین شانتو کی قیادت کی بھی تعریف کی۔ مشفیق کے مطابق شانتو نہ صرف اچھی بیٹنگ کررہے ہیں بلکہ مثال قائم کرکے ٹیم کی قیادت بھی کررہے ہیں۔
سینئر وکٹ کیپر بیٹر نے کہا کہ وہ اب بھی ہر ٹیسٹ میچ کے لیے مکمل سنجیدگی سے تیاری کرتے ہیں اور اکثر ٹیم کے اجتماعی پریکٹس سیشن کے بعد اضافی وقت نیٹس میں گزارتے ہیں تاکہ اپنی تیاری کو مزید بہتر بنا سکیں


