آج بھی بیٹی کی قبر پر جا کر معافی مانگتی ہوں، عشرت فاطمہ کی جذباتی گفتگو

پاکستان کی لیجنڈ براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں اپنی رنگت کے باعث وہ اکثر ذہنی دباؤ اور احساسِ محرومی کا شکار رہیں۔

ٹوثیق حیدر کے پوڈ کاسٹ میں عشرت فاطمہ نے اپنی نجی اور پیشہ وارانہ زندگی سے متعلق کھل کر گفتگو کی ۔ اس دوران انہوں نے ایک نہایت حساس اور جذباتی واقعہ بیان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ معاشرے میں خوبصورتی کے مخصوص معیار اس قدر مضبوط ہیں کہ بچپن سے ہی انسان خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ اپنی سانولی رنگت پر دل گرفتہ رہتی تھیں اور اس حوالے سے شکوہ بھی کرتی تھیں، تاہم وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ اصل اہمیت انسان کی صلاحیت، کردار اور محنت کی ہوتی ہے

عشرت فاطمہ اپنی پہلی بیٹی کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پہلی بچی پیدائش کے وقت دنیا سے رخصت ہوگئی تھی، لیکن اس صدمے کے عالم میں بھی ان کے ذہن میں سب سے پہلا سوال بچی کی رنگت سے متعلق آیا۔ ان کے مطابق آج وہ اس سوچ پر شدید ندامت محسوس کرتی ہیں۔

عشرت فاطمہ نے کہا کہ جب بھی وہ اپنی بیٹی کی قبر پر جاتی ہیں تو دل ہی دل میں اس سے معافی مانگتی ہیں۔ یہ احساس انہیں بار بار یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں رنگت کے حوالے سے منفی تصورات کس حد تک گہرائی میں موجود ہیں۔