برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظیم مسلم کونسل آف برٹین کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز پر مشتمل یونائیٹڈ کنگڈم میں مسلم آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی بڑی خصوصیت اس کی کم عمر آبادی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مسلمان کل آبادی کا تقریباً 6.5 فیصد ہیں، جبکہ ان کی اوسط عمر صرف 27 سال ہے جو ملکی اوسط سے تقریباً 13 سال کم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً نصف مسلم آبادی 25 سال سے کم عمر ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں برطانوی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر اگر ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے کم کر کے 16 سال کی جائے، جس سے ہزاروں نئے نوجوان ووٹرز شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانوی مسلمان مختلف نسلی اور سماجی پس منظر رکھتے ہیں، جن میں پاکستانی، بنگلہ دیشی، صومالی، عرب اور سفید فام مسلمان شامل ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی “ووٹر بلاک” سمجھنا درست نہیں۔
تعلیمی اور سماجی پہلوؤں میں بھی اہم تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسلم خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ تقریباً ایک تہائی مسلمان ڈگری ہولڈر ہیں۔ نوجوان نسل میں تعلیمی کامیابی کی شرح قومی اوسط کے برابر یا بعض شعبوں میں اس سے بھی بہتر بتائی گئی ہے۔
تاہم رپورٹ میں کچھ معاشی چیلنجز کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مسلم گھرانوں میں سنگل پیرنٹ فیملیز کی شرح قومی اوسط سے زیادہ ہے، جبکہ گھر کی ملکیت کی شرح بھی نسبتاً کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی ثقافتی مسئلے کی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی رکاوٹوں کا نتیجہ ہے، جن میں روزگار کے مواقع، رہائش اور بعض علاقوں میں سرمایہ کاری کی کمی شامل ہے۔
مجموعی طور پر رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مسلم کمیونٹی ایک نوجوان، تعلیم یافتہ اور تیزی سے بدلتی ہوئی آبادی ہے جو نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی منظرنامے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔


