اہم ترین

پانڈا بانڈ سے یوآن کے عالمی استعمال کو بھی فروغ ملے گا، محمد اورنگزیب

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا نے پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے، جو دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے پاکستان کو پہلی مرتبہ چین کی مقامی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوئی ہے، جبکہ یہ کامیاب اجرا اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی مالیاتی اداروں کا پاکستان کی معاشی استحکام پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ صرف پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی کے لیے اہم نہیں بلکہ اس سے چینی کرنسی آر ایم بی اور یوآن کے بین الاقوامی استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔ ان کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً ایک چوتھائی تجارت پہلے ہی آر ایم بی اور چینی یوآن میں ہو رہی ہے، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے مالیاتی اور اقتصادی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعتی شراکت داری، کاروباری تعاون اور انفراسٹرکچر سے معاشی فوائد حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اور چین کی ترجیحات باہمی تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حوالے سے ایک دوسرے سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود پاکستان نے خریداری، ترسیل اور لاجسٹکس سے متعلق ابتدائی چیلنجز کو مؤثر انداز میں سنبھالا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اہم معاشی اشاریے درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں اور ڈیجیٹل گورننس میں جاری اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پانڈا بانڈ پروگرام کا مجموعی حجم ایک ارب امریکی ڈالر ہے جبکہ ابتدائی اجرا 250 ملین امریکی ڈالر کے مساوی رکھا گیا ہے۔ اس اجرا کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی معاونت بھی حاصل ہے۔

انہوں نے پانڈا بانڈ کے اجرا میں تعاون پر چینی حکومت، مالیاتی اداروں، ریگولیٹری حکام اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مستقبل میں مزید مالیاتی تعاون اور نئے اجرا کی راہ ہموار کرے گی۔

پاکستان