اہم ترین

چین نے دنیا کا پہلا ہیومینائیڈ ماچا روبوٹ متعارف کرا دیا

چین کی معروف روبوٹکس کمپنی یونی ٹری نے دنیا کا پہلا “پروڈکشن ریڈی” ہیومینائیڈ ماچا روبوٹ جی ڈی 01 متعارف کرا کے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس جدید روبوٹ کی ابتدائی قیمت تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔

سائنس فکشن فلموں اور جاپانی اینیمی گنڈام جیسے دیو ہیکل روبوٹک سوٹس اب حقیقت بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یونٹری کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وانگ ژینگ ژینگکو جی ڈی 01 کے اندر بیٹھ کر اسے کنٹرول کرتے اور دیواریں توڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تقریباً 2.7 میٹر بلند یہ ماچا روبوٹ 500 کلوگرام وزنی ہے، جس میں انسانی آپریٹر کا وزن بھی شامل ہے۔ جی ڈی 01 کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک بٹن دبانے پر دو ٹانگوں والے انداز سے چار ٹانگوں والے موڈ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے اس کی حرکت مزید مستحکم اور تیز ہو جاتی ہے۔

کمپنی کے مطابق جی ڈی 01 دنیا کا پہلا ایسا ہیومانائیڈ ماچا ہے جو بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ 39 لاکھ چینی یوآن یعنی تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی قیمت کو بہت زیادہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یونٹری کا کہنا ہے کہ وہ پیداواری لاگت کم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس کی قیمت مزید کم کی جا سکے۔

یہ جدید روبوٹ ابھی باضابطہ طور پر مارکیٹ میں لانچ نہیں کیا گیا، لیکن اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کے ٹیکنالوجی شوقین افراد اسے مستقبل کی جھلک قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ ماہرین نے اس کی بیٹری لائف، عملی استعمال اور روبوٹ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے جیسے مسائل پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جی ڈی 01 کی آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی دنیا اب سائنس فکشن سے نکل کر حقیقی زندگی میں داخل ہو رہی ہے۔

پاکستان