معروف بھارتی فلم ساز انوراگف کشیپ نے کانز فلم فیسٹیول میں بڑھتی ہوئی فیشن اور ریڈ کارپٹ کلچر پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ عالمی فلمی میلہ سینما سے زیادہ فیشن کی نمائش بنتا جا رہا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انوراگ کشیپ نے کہا کہ بھارت میں کانز کو اصل فلمی میلے کے بجائے صرف ریڈ کارپٹ اور مشہور شخصیات کے لباس کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بیشتر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کانز کا اصل مقصد عالمی سینما کو فروغ دینا اور نئی فلموں و فلم سازوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں کانز کا جنون صرف ریڈ کارپٹ تک محدود ہو گیا ہے۔ لوگ یہ نہیں جانتے کہ اس کے پیچھے ایک مکمل فلم فیسٹیول موجود ہے۔ ہم لوگ تو خاموشی سے سائیڈ سے گزر جاتے ہیں۔
انوراگ کشیپ کے مطابق ریڈ کارپٹ کانز کا سب سے کم اہم حصہ ہے جبکہ اصل اہمیت فلموں، اسکریننگز اور تخلیقی مکالمے کی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگ کانز صرف دکھاوے اور برانڈ پروموشن کے لیے آتے ہیں جبکہ فلمیں دیکھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بہت کم بھارتی نمائندوں کو فلمیں دیکھتے ہوئے دیکھا۔ اکثر لوگ صرف مارکیٹ، پویلین یا فوٹو سیشنز تک محدود رہتے ہیں۔
فلم انڈسٹری کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے انوراگ کشیپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ وہ فلمیں بنا بنا کر تھک چکے ہیں کیونکہ اب انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کس مقصد کے لیے اور کس قسم کی فلمیں بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف اے آئی ہے اور دوسری طرف فلم انڈسٹری کی موجودہ صورتحال۔ یہ مسئلہ صرف بھارت کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے فلم ساز اس بحران کا سامنا کر رہے ہیں، چاہے وہ ہالی ووڈ ہو یا کوئی اور ملک۔
تاہم انوراگ کشیپ نے اس بات کو سراہا کہ کانز اب بھی نئے اور مختلف خیالات رکھنے والے فلم سازوں کو خوش آمدید کہتا ہے، اور یہی چیز انہیں اس فیسٹیول کی جانب کھینچ لاتی ہے۔ ان کے مطابق یہاں فلم سازی کے روایتی اصولوں سے ہٹ کر سوچنے کی آزادی موجود ہے۔











