ایران کا بڑا سفارتی فیصلہ: باقر قالیباف کو چین تعلقات کی نگرانی سونپ دی گئی

ایران نے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ تقرری صدر مسعودپزیشکیان کی سفارش اور سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری سے عمل میں آئی۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد باقر قالیباف ایران اور چین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ انہیں حالیہ عرصے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بھی ایک اہم اور مؤثر شخصیت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے بعد ہونے والے سفارتی رابطوں میں۔

یہ عہدہ اس سے قبل مرحوم ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی کے پاس تھا، جو مارچ میں اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شہید کردیئے گئے تھے۔ علی لاریجانی نے 2021 میں ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ اسٹریٹجک تعاون معاہدے کو حتمی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جسے خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قالیباف کی تقرری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران عالمی دباؤ، خطے میں کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایران نے چند چینی بحری جہازوں کو اہم عالمی گزرگاہ آبنائےہرمز سے گزرنے کی اجازت بھی دی، جسے جنگ کے آغاز کے بعد عارضی طور پر محدود کر دیا گیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ اجازت ایران اور چین کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول سے متعلق ایک خصوصی مفاہمت کے بعد دی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف تہران اور بیجنگ کے قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا بھی اہم اشارہ ہے۔