کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کا خطرناک پھیلاؤ، عالمی ایمرجنسی کااعلان

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) نے افریقی ممالک یوگنڈا اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا وائرس کے نئے خطرناک پھیلاؤ کو صحت عامہ سے متعلق عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز اور کم از کم 88 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریئیسسنے کہا کہ اگرچہ موجودہ صورتحال عالمی وبا (پینڈیمک) کے معیار پر پوری نہیں اترتی، تاہم پڑوسی ممالک میں وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق موجودہ وبا “بُنڈی بُگیو وائرس ڈیزیز (بی وی ڈی) نامی ایبولا کی نایاب قسم سے پھیلی ہے، جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج موجود نہیں۔ ماضی میں کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے 20 سے زائد پھیلاؤ سامنے آ چکے ہیں، لیکن یہ بی وی ڈی کی صرف تیسری بڑی وبا ہے۔

وبا کا مرکز کانگو کے صوبےاتوری کو قرار دیا جا رہا ہے، جو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ بعد ازاں کانگو کے بڑے شہر گوما میں بھی ایک مریض کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد خطے میں تشویش مزید بڑھ گئی۔

کانگو کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے سربراہ جین جیکس مئیومبی کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے شوہر کی وفات کے بعد گومہ پہنچی تھیں اور وہ پہلے ہی وائرس سے متاثر تھیں۔

یوگنڈا نے بھی دارالحکومت کمپالا میں دو کیسز کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق دونوں مریض کانگو سے سفر کر کے آئے تھے، تاہم ان کے درمیان براہِ راست تعلق نہیں ملا۔

صحت حکام نے متاثرہ ہسپتالوں میں اسکریننگ، بخار چیکنگ، ماسک کی فراہمی اور متاثرہ افراد کے رابطوں کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ یوگنڈا کے صدر یووری میسیوینی نے عوام سے خوفزدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے تمام پڑوسی ممالک کو ہنگامی اقدامات، سرحدی نگرانی اور فوری آئسولیشن پروٹوکول فعال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ سرحدیں بند کرنے یا تجارت روکنے سے غیر قانونی اور غیر نگرانی شدہ آمدورفت بڑھ سکتی ہے، جو وبا کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔