فرانس کے شہر کانز میں جاری کانزفلم فیسٹیول کے دوران ہسپانوی اداکار خاویر بارڈیم نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ، ، روسی صدرولادی میر پیوتن اوراسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی “زہریلی مردانہ سوچ” دنیا میں جنگوں اور تباہی کو ہوا دے رہی ہے۔
کانز میں اپنی نئی فلم دی بی لووڈ کی پریس کانفرنس کے دوران 57 سالہ خاویر بارڈیم نے کہا کہ طاقت کے نشے میں مبتلا قیادت دنیا بھر میں تشدد، جنگوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسی سوچ صرف گھریلو تشدد تک محدود نہیں بلکہ عالمی تنازعات میں بھی نظر آتی ہے۔
خاویر بارڈیم نے سخت لہجے میں کہا کہ بعض عالمی رہنما طاقت کے اظہار کو برتری سمجھتے ہیں اور یہی ذہنیت ہزاروں افراد کی ہلاکت کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیل کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا اور کہا کہ خاموشی یا حمایت اس عمل کو جواز دینے کے مترادف ہے۔
ہسپانوی اداکار گزشتہ چند برسوں سے غزہ جنگ کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے والے نمایاں فلمی ستاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مؤقف کے باوجود انہیں فلمی دنیا میں پہلے سے زیادہ کام مل رہا ہے، جس کی وجہ ان کے مطابق غزہ تنازع پر بدلتا ہوا عالمی بیانیہ ہے۔


