ایران کی فٹبال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں ترکیہ روانہ ہوگئی ہے، جہاں وہ ایک دوستانہ میچ کھیلنے کے ساتھ ساتھ امریکا کے ویزوں کے لیے درخواستیں بھی جمع کروائے گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ٹیم ترکیہ کے شہرانطالیہ پہنچ گئی، جہاں کھلاڑی آخری تربیتی کیمپ اور دوستانہ مقابلوں میں حصہ لیں گے۔
ایران کی ٹیم ایسے وقت میں ورلڈ کپ کی تیاری کر رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان شدید سیاسی اور فوجی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران پر حملوں کے بعد خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، اگرچہ بعد میں جنگ بندی ہو گئی۔
ایران کے ہیڈ کوچ عامر قالینوئی نے کہا کہ ترکی میں قیام کے دوران امریکی ویزا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔
اگرچہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی ٹیم ورلڈ کپ میں خوش آمدید ہے، تاہم بعض ایرانی حکام اور وفد کے ارکان کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ مسئلہ ایرانی کھلاڑی نہیں بلکہ وہ دیگر لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں ایران اپنے ساتھ لانا چاہتا ہے۔
فیفا نے واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ اپنے شیڈول کے مطابق امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں ہی ہوگا۔ ایران کی جانب سے میچز کسی اور ملک منتقل کرنے کی تجویز مسترد کردی گئی۔
ایران گروپ جی میں شامل ہے اور اپنا پہلا میچ 15 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں کھیلے گا۔ جس کے بعد ایران کا مقابلہ بیلجئیم اور پھر مصر سے ہوگا۔


