امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ سے قبل عراق کے مغربی صحرائی علاقوں میں دو خفیہ فوجی اڈے قائم کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مقامات 2024 کے آخر سے تیار کیے جا رہے تھے اور انہیں عراق کے مغربی ریگستان میں واقع کیا گیا تھا۔ عراقی حکام اور ایک رکن پارلیمنٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اڈے غیر رسمی اور خفیہ نوعیت کے تھے۔
اسی حوالے سے ایک اور امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا کہ ایک اڈہ جنگ شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل قائم کیا گیا تھا اور مبینہ طور پر اسے امریکی علم میں لایا گیا تھا۔ اس اڈے کو اسرائیلی اسپیشل فورسز کے لاجسٹک اور آپریشنل مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان خفیہ تنصیبات کے ذریعے عراق میں بعض آپریشنز کیے گئے، اور مارچ کے اوائل میں ان علاقوں میں موجود عراقی یونٹس کے قریب آنے پر کارروائیاں بھی کی گئیں۔
عراقی حکام نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی فوجی قوت کو ملک کے اندر موجودگی کی اجازت نہیں دی گئی۔ نائب عراقی کمانڈر کے مطابق صرف کچھ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاعات ملی تھیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ نے ان رپورٹس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو عراق کے ساتھ اٹھائے گا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اسرائیل خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور عراق خطے میں ایک نازک توازن کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ عراق کی خودمختاری اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھا سکتی ہیں۔


