اہم ترین

یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر سخت مؤقف

کینیڈا ، برطانیہ اور فرانس سمیت 9 ممالک کے رہنماؤں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی بستیوں کی توسیع کے منصوبے فوری طور پر روک دے۔

مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ناروے اور نیدرلینڈز کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور E1 علاقے میں مجوزہ تعمیراتی منصوبے بھی اسی غیرقانونی دائرے میں آتے ہیں۔

اسرائیل کے منصوبے کے تحت ای 1 علاقے میں ہزاروں گھروں کی تعمیر کی تیاری ہے، جو یروشلم کو مشرق میں موجود ماعلی ادومیم نامی غیرقانونی بستی سے جوڑ دے گا، جس پر عالمی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کو بستیوں کی توسیع اور انتظامی اختیارات بڑھانے کے اقدامات روکنے چاہئیں، جبکہ آبادکاروں کے تشدد کے واقعات پر احتساب اور تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ان تمام مؤقفوں کی سخت مخالفت کرتے ہیں جن میں اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان کی جانب سے فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی اور الحاق کی بات کی جاتی ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی طاقتیں خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔

پاکستان