پیرس: فرانسیسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ فرانس کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں مزید ایک ارب یورو کی سرمایہ کاری کرے گا تاکہ امریکہ اور چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تکنیکی برتری کا مقابلہ کیا جاسکے۔
پیرس کے قریب واقع سپر کمپیوٹنگ سینٹر کے دورے کے دوران صدر میکرون نے کہا کہ عالمی حریف ممالک کی رفتار فرانس اور یورپی یونین کو مجبور کررہی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کریں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی رفتار اختیار کریں۔
کوانٹم کمپیوٹنگ کو مستقبل کی انقلابی ٹیکنالوجی قرار دیا جارہا ہے، جو پیچیدہ ریاضیاتی مسائل کو روایتی کمپیوٹرز کے مقابلے میں کئی گنا تیزی سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے ادویات کی تیاری، جدید مواد کی تحقیق اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں بڑی پیشرفت ممکن ہوسکے گی۔
فرانسیسی صدر نے سیمی کنڈکٹرز کے لیے مزید پانچ سو پچاس ملین یورو کی سرکاری فنڈنگ کا بھی اعلان کیا، جبکہ فرانس 2021 سے اب تک کوانٹم ریسرچ پر دو اعشاریہ تین ارب یورو خرچ کرچکا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ تجارت نے بھی نجی کوانٹم کمپنیوں کے لیے دو ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دوڑ مزید تیز ہوگئی ہے۔
صدر میکرون نے زور دیا کہ یورپ کو ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہوگی جو یورپی کمپنیوں کے ذریعے ڈیزائن، تعمیر اور چلائی جائے تاکہ خطے کو بیرونی انحصار سے آزاد رکھا جاسکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر انحصار مستقبل میں صنعتی اور تزویراتی کمزوری میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
ادھر امریکی چِپ کمپنی نے بھی فرانسیسی کوانٹم اسٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جسے یورپی ٹیکنالوجی شعبے کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔











