اہم ترین

اسرائیل، لبنان اور امریکا میں تاریخی امن فریم ورک، جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار

اسرائیل، لبنان اور امریکا نے ایک سہ فریقی فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور مسلح تصادم کا مستقل خاتمہ کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد رکھنا ہے۔

واشنگٹن میں دستخط کیے گئے 14 نکاتی معاہدے کے متن کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے امریکی حمایت سے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ تنازع کا خاتمہ کریں گے بلکہ اس کی بنیادی وجوہات کو بھی حل کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر جنگی کیفیت کا اختتام کریں گے۔

فریم ورک کے تحت تمام حل طلب معاملات براہِ راست دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کیے جائیں گے، جن میں امریکا ثالث اور ضامن کا کردار ادا کرے گا۔

معاہدے کے مطابق لبنانی مسلح افواج مرحلہ وار پورے ملک میں اپنی ریاستی عملداری بحال کریں گی، جبکہ غیر ریاستی مسلح گروہوں، بالخصوص حزب اللہ، کے اسلحے کے تصدیق شدہ خاتمے اور ان کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کے بعد اسرائیلی فوج بتدریج لبنانی علاقوں سے واپس جائے گی۔

اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر دو پائلٹ زونز قائم کیے جائیں گے جہاں لبنانی فوج مکمل سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ بعد ازاں باہمی اتفاق سے مزید علاقوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔ جیسے ہی غیر ریاستی گروہوں کی غیر مسلح ہونے کی تصدیق ہوگی، متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جائے گا اور بے گھر شہری محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے۔

معاہدے میں لبنان نے اپنی سرزمین پر طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار ریاست کے پاس رکھنے، تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور انہیں کسی بھی عسکری یا سکیورٹی کردار سے الگ رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے لبنان نے امریکا کی قیادت میں عالمی اور خصوصاً عرب ممالک سے تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں اس کی فوجی کارروائیاں صرف حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے لاحق خطرات کے ردعمل میں کی گئیں۔ اسرائیل نے واضح کیا کہ اگر ان گروہوں کا مکمل خاتمہ اور متفقہ سکیورٹی انتظامات نافذ ہو جاتے ہیں تو لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی یا آئندہ کسی فوجی کارروائی کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

اسرائیلی حکومت نے معاہدے میں یہ بھی اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرزمین پر اس کا کوئی علاقائی یا زمینی دعویٰ یا توسیع پسندانہ عزائم موجود نہیں ہیں۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک جامع امن و سلامتی معاہدے کی تیاری کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیں گے، جبکہ امریکا ان مذاکرات اور عمل درآمد کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔

پاکستان