بالی ووڈ کے معروف مصنف اور شاعر جاوید اختر نے تخلیقی دنیا، خاص طور پر سنیما اور ادب میں دیانت داری اور فکری سچائی کو ٹیلنٹ سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اصل کامیابی صرف ہنر یا شہرت سے نہیں بلکہ اس بات سے حاصل ہوتی ہے کہ تخلیق کار اپنے کام، اپنے خیالات اور اپنی اقدار کے ساتھ کس حد تک ایماندار ہے۔
بھارتی ویب سائیٹ میں شائع انٹروی میں جاوید اختر کا کہنا تھا کہ دیانت داری کا مطلب صرف سچ بولنا نہیں بلکہ اپنے نظریات اور عمل کے درمیان تضاد نہ رکھنا ہے۔ ایک سچا فنکار وہ ہے جو وہی پیش کرے جسے وہ درست سمجھتا ہے، نہ کہ صرف وہ جو ناظرین سننا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق غلطی تسلیم کرنا، خود احتسابی کرنا اور اپنی رائے پر نظرثانی کرنا بھی فکری دیانت کا حصہ ہے۔
انہوں نے معروف فلم لگان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں انہیں اس کی کامیابی پر شک تھا، مگر بعد میں وہ فلم بھارتی سنیما کی اہم ترین تخلیقات میں شمار ہوئی۔ اپنی غلط رائے کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فن میں ایمانداری صرف ذاتی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ اور ثقافتی بھی ہوتی ہے۔ فنکار کو اپنی تہذیبی جڑوں اور سماجی حقیقتوں سے جڑا رہنا چاہیے۔ مغربی یا بین الاقوامی اثرات سے متاثر ہونا غلط نہیں، لیکن اپنی شناخت کھو دینا ایک بڑی فنی کمزوری ہے۔
انہوں نے ستیہ جیت رے، اکیرہ کروساوا، برگمین اور فیلی نی جیسے عالمی ہدایت کاروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان سب کی عالمی کامیابی کی وجہ ان کی مقامی سچائی اور ذاتی وژن سے وفاداری تھی۔
ان کے مطابق سنیما کی اصل طاقت کہانی کی سچائی میں ہے، نہ کہ مصنوعی جذبات یا محض تجارتی کامیابی میں۔ اگر کوئی فنکار صرف تالیاں حاصل کرنے کے لیے کام کرے تو وہ رفتہ رفتہ اپنی تخلیقی دیانت کھو دیتا ہے۔ کامیابی سے زیادہ اہم بات بھروسہ ہے۔ اگر فنکار اپنے کام اور ضمیر کے ساتھ سچا رہے تو لوگ اختلاف کے باوجود اس پر اعتماد کرتے ہیں۔











