ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کو یکطرفہ مقابلے کے بعد ایک اننگز اور 217 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔
سر ویوین رچرڈز اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے چوتھے روز سری لنکا اپنی دوسری اننگز میں صرف 101 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پہلی اننگز میں 318 رنز کے خسارے کے بعد سری لنکن بیٹنگ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولرز کے سامنے مکمل طور پر ناکام رہی۔
37 سالہ تجربہ کار فاسٹ بولر کیمار روچ نے دوسری اننگز میں 51 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور اپنے ٹیسٹ کیریئر کی 300 وکٹیں مکمل کر کے ویسٹ انڈیز کی تاریخ کے صرف پانچویں بولر بن گئے جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے آسیتھا فرنینڈو کو بولڈ کر کے یہ تاریخی سنگِ میل عبور کیا۔
میچ کے بعد کیمار روچ نے کہا کہ 17 سالہ ٹیسٹ کیریئر کے بعد یہ لمحہ ان کے لیے انتہائی خاص ہے۔ انہوں نے انجری کے بعد واپسی میں مدد کرنے والے فزیوتھراپسٹ ڈینس بیئم کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ صرف اس کامیابی کا جشن منانا چاہتے ہیں، مستقبل کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
ویسٹ انڈیز کے نوجوان فاسٹ بولر جیڈن سیلز نے 14 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں اور آخری بلے باز لاہیرو کمارا کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کی فتح پر مہر ثبت کی۔
سری لنکا کی جانب سے صرف سابق کپتان دنیش چندیمل نے مزاحمت کی اور 43 رنز کی اننگز کھیلی، تاہم ان کے آؤٹ ہوتے ہی پوری ٹیم جلد پویلین لوٹ گئی۔
سری لنکن کپتان دھننجایا ڈی سلوا نے شکست کے بعد اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کے پاس پہلی اننگز میں مناسب برتری کا موقع تھا، لیکن اہم فاسٹ بولر لاہیرو کمارا کی عدم دستیابی بڑا نقصان ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے ایسی بولنگ اٹیک کی ضرورت ہوگی جو 20 وکٹیں حاصل کر سکے۔
دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے اپنی قیادت میں پہلی ٹیسٹ فتح کو خواب کی تعبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے منصوبے کے مطابق بہترین کھیل پیش کیا۔
یہ ویسٹ انڈیز کی گزشتہ 17 ماہ میں پہلی ٹیسٹ فتح ہے، جبکہ ہوم گراؤنڈ پر نومبر 2024 کے بعد پہلی کامیابی بھی ہے۔ دوسرا اور آخری ٹیسٹ جمعے سے اسی میدان میں کھیلا جائے گا۔











