روایتی کیتھولک تنظیم سوسائٹی آف سینٹ پیئس دہم (ایس ایس پی ایکس) نے بدھ کے روز پوپ کی منظوری کے بغیر اپنے نئے بشپ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے کیتھولک چرچ میں ایک نئی تقسیم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق کیتھولک تنظیم سوسائٹی آف سینٹ پیئس دہم نے نئے پادریوں کی تقرری کی، جبکہ ویٹی کن کے مطابق پوپ کی اجازت کے بغیر بشپ مقرر کرنا چرچ کی کھلی نافرمانی تصور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ بشپ خودکار طور پر اخراجِ کلیسا کی سزا کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس عمل کو شقاق انگیز قرار دیا جاتا ہے۔
سوسائٹی آف سینٹ پیئس دہم کی بنیاد 1970 میں فرانسیسی بشپ مارسل لیفیبور نے رکھی تھی۔ یہ تنظیم دوسری ویٹی کن کونسل (1962-1965) کے بعد چرچ میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کو مسترد کرتی ہے اور روایتی لاطینی عبادت، قدامت پسند مذہبی تعلیمات اور روایتی سماجی نظام کی حامی ہے۔
یہ تنظیم 1988 میں بھی اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی تھی جب اس نے پوپ کی اجازت کے بغیر چار بشپ مقرر کیے تھے، جس پر فوری طور پر اخراجِ کلیسا کی سزا دی گئی تھی۔ بعد ازاں 2009 میں پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے یہ سزا واپس لے لی، جبکہ پوپ فرانسس نے 2015 میں اس تنظیم کے پادریوں کے اعترافِ گناہ اور نکاح کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا تھا۔
تنظیم اس وقت تقریباً 80 ممالک میں سرگرم ہے، اس کے 730 پادری، 260 سے زائد زیرِ تربیت مذہبی طلبہ اور تقریباً چھ لاکھ پیروکار موجود ہیں، تاہم یہ کیتھولک چرچ کے تقریباً 1.4 ارب افراد پر مشتمل عالمی برادری میں ایک اقلیتی دھڑا شمار ہوتی ہے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ اس کے پاس صرف دو فعال بشپ ہیں، جس کے باعث اس کی مذہبی سرگرمیوں میں توسیع ممکن نہیں رہی۔ اس کا کہنا ہے کہ نئے بشپ مقرر کرنے کے لیے پوپ سے اجازت طلب کی گئی تھی، لیکن اطمینان بخش جواب موصول نہ ہونے پر یہ فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب مذہبی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے تنظیم کے اندر موجود سخت گیر اور مذاکرات کے حامی دھڑوں کے درمیان اختلافات بھی کارفرما ہیں۔ ان کے مطابق نئی قیادت کے ساتھ طاقت کا توازن قائم کرنے کی کوشش بھی اس اقدام کا ایک اہم سبب ہے۔
ادھر پوپ لیو چہاردہم اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں اور انہوں نے اس سے قبل تنظیم سے ایک بار پھر اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل بھی کی تھی، تاکہ کیتھولک چرچ میں کسی نئی مذہبی تقسیم سے بچا جا سکے۔











