اہم ترین

فیس بک، انسٹاگرام سمیت میٹا کے پلیٹ فارمز پر جانوروں کی غیر قانونی تجارت

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک تحقیق اور ماحولیاتی تنظیموں کی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً فیس بک، پر غیر قانونی جنگلی حیات کی خرید و فروخت بڑے پیمانے پر جاری ہے، جہاں دنیا کے نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار جانور بھی فروخت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

اے ایف پی نے درجنوں ایسی پوسٹس کا جائزہ لیا جن میں پینگولن (چیونٹی خور جانور)، گینڈے کے سینگ، بندر، گوہ، اور دیگر محفوظ جنگلی جانوروں یا ان کے اعضا کی فروخت کی تشہیر کی جا رہی تھی۔ ایک پوسٹ میں ترازو پر رکھے ہوئے مردہ پینگولن کو “موسمی جنگلی لذیذ غذا” کے طور پر فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

پیر کو جاری ہونے والی متعدد غیر سرکاری تنظیموں کی مشترکہ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا دنیا کی “غیر قانونی جنگلی حیات کی سب سے بڑی معلوم آن لائن مارکیٹ” کی میزبانی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی اور سبسکرپشن ماڈلز کے ذریعے بعض صارفین کو مالی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے اس غیر قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔

رپورٹ سے قبل گلوبل انیشی ایٹو اگینسٹ ٹرانس نیشنل آرگنائزڈ کرائم (جی آئی – ٹی او سی) نے بھی خبردار کیا تھا کہ فیس بک آن لائن جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کا مرکزی پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔

میٹا نے اے ایف پی کے سوالات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم کمپنی نے اپنی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پلیٹ فارمز پر خطرے سے دوچار انواع کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے۔

تاہم تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ جی آئی-ٹی او سی کی تحقیق کے مطابق اپریل 2024 سے مارچ 2026 کے درمیان سوشل میڈیا پر جنگلی حیات سے متعلق 20 ہزار سے زائد اشتہارات سامنے آئے جن میں 2 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ جانور یا ان سے بنی مصنوعات فروخت کے لیے پیش کی گئیں۔ ان میں سے تقریباً تین چوتھائی اشتہارات فیس بک پر موجود تھے۔

تحقیق کے شریک مصنف اور ماہر ماحولیات رسل گرے نے بتایا کہ جن اکاؤنٹس اور گروپس کی نشاندہی کر کے رپورٹ بھی کی گئی، ان میں سے کئی اب بھی فعال ہیں۔

وائلڈ لائف فرینڈز فاؤنڈیشن تھائی لینڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر ٹام ٹیلر نے کہا کہ انہوں نے متعدد بار غیر قانونی مواد کی اطلاع دی، مگر کبھی مؤثر کارروائی نہیں دیکھی۔ ان کے مطابق قانون توڑنے والے اکاؤنٹس بند کیے جانے چاہییں اور ان کے پیچھے موجود مجرمانہ نیٹ ورکس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔

رپورٹ کے شریک مصنف اور جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے آزاد تفتیش کار ڈینیئل اسٹائلز کا کہنا ہے کہ اشتہارات اور سبسکرپشن سے حاصل ہونے والی آمدنی لوگوں کو زیادہ توجہ حاصل کرنے اور غیر قانونی مواد شائع کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق صرف فیس بک ہی نہیں بلکہ انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ بھی مختلف سطح پر غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ کئی فروخت کنندگان قیمت ظاہر کرنے کے بجائے خریداروں کو نجی پیغام بھیجنے کی ہدایت دیتے ہیں تاکہ لین دین خفیہ رکھا جا سکے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز بھی اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں، کیونکہ ایک بار ایسے مواد سے دلچسپی ظاہر کرنے کے بعد صارف کو مزید اسی نوعیت کی پوسٹس دکھائی جانے لگتی ہیں۔

اگرچہ میٹا سمیت 11 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے حال ہی میں اپنی ویب سائٹس اور ایپس سے غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت ختم کرنے کے لیے تعاون کا اعلان کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف وعدے کافی نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق جب تک مؤثر اقدامات کے ذریعے اس تجارت کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور یہ ثابت نہیں کیا جاتا کہ پلیٹ فارمز اس سے مالی فائدہ نہیں اٹھا رہے، آن لائن غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔

پاکستان