اہم ترین

اسلام آباد میں فراہم کیا جانے والا پانی پینے کے قابل نہیں: قائمہ کمیٹی میں انکشافات

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے اعتراف کیا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں فراہم کیا جانے والا پانی پینے کے قابل نہیں جبکہ اسلام آباد کے کئی دیگر علاقوں میں بھی پینے کے پانی کا معیار تسلی بخش نہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن شازیہ ثوبیہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزارت کے حکام، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے جوابدہ ہیں اور جب بھی طلب کیا جائے گا، حاضر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اجلاسوں میں شریک نہ ہونے کا تاثر درست نہیں، بعض معاملات وزارت کے دائرہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔

مصدق ملک نے ملکی مالی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت تقریباً 15 سے 16 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کرتی ہے، جس کا تقریباً نصف قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا آئینی حصہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باعث ترقیاتی بجٹ مسلسل کم ہو رہا ہے اور مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ای پی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ واٹر لیبارٹریوں کو جدید بنایا گیا ہے، جبکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم او) بیجوں کی درآمد کی اجازت ماہرین کی نگرانی میں دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ان بیجوں سے حاصل ہونے والا تیل خوراک میں استعمال ہوتا ہے جبکہ پولٹری فیڈ بھی تیار کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ مختلف ڈیموں کے پانی کے نمونوں کی جانچ کے نتائج تشویشناک رہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ لاجز کے پانی کے ٹیسٹ میں بھی پانی پینے کے قابل نہیں پایا گیا، جبکہ اسلام آباد کے کئی دیگر علاقوں میں بھی پینے کے پانی کا معیار تسلی بخش نہیں۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن شازیہ ثوبیہ نے بھی پارلیمنٹ لاجز کے پانی پر تشویش کا اظہار کیا اور کلائمیٹ لیوی سے متعلق تفصیلات طلب کیں، جبکہ رکن کمیٹی رانا ایثار نے آئی ایم ایف اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعاون اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات پر سوالات اٹھائے۔

سی ڈی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کورنگ نالے کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے استعمال کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس سے درآمدی پٹرول پر آنے والا بھاری زرمبادلہ بچایا جا سکے گا، اضافی بجلی کی کھپت ممکن ہوگی اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے ساتھ موسمی حالات میں بھی بہتری آئے گی۔

پاکستان