زمبابوے نے ایک واحد ٹیسٹ میچ میں بنگلا دیش کو ایک اننگز اور 85 رنز سے شکست دے کر اپنی ٹیسٹ تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ ہرارے میں کھیلے گئے اس میچ کا فیصلہ تیسرے روز ہی ہو گیا، جہاں میزبان ٹیم نے ہر شعبے میں شاندار کھیل پیش کیا۔
زمبابوے نے پہلی اننگز میں 410 رنز بنائے، جس میں انوسنٹ کائیا نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کرتے ہوئے 140 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جبکہ ویسلے مادھیویرے 77 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ بنگلا دیش کی جانب سے تیج الاسلام نے 7 وکٹیں حاصل کیں، تاہم وہ ٹیم کو بڑے خسارے سے نہ بچا سکے۔
جواب میں بنگلا دیش کی پہلی اننگز صرف 140 رنز پر سمٹ گئی، جس کے باعث اسے 270 رنز کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری اننگز میں بھی بنگلا دیشی بیٹنگ ناکام رہی اور پوری ٹیم 185 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
تیسرے روز بنگلا دیش نے 40 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ سے کھیل کا آغاز کیا، مگر بلیسنگ مزاربانی نے ابتدا ہی میں محمود الحسن جوئے اور مومن الحق کو آؤٹ کر کے ٹیم کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ نجم الحسن شانتو نے 30 اور مشفق الرحیم نے 34 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی، لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پوری ٹیم یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتی گئی۔
زمبابوے کے بلیسنگ مزاربانی نے دوسری اننگز میں 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ رچرڈ نگاراوا نے 3 اور نیومین نیامہوری نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ میچ کی تمام 20 وکٹیں زمبابوے کے فاسٹ بولرز نے حاصل کیں، جو اس کی ٹیسٹ تاریخ میں صرف دوسری بار ہوا ہے۔
یہ زمبابوے کی مسلسل دوسری ٹیسٹ فتح بھی ہے جو اس نے ایک اننگز کے فرق سے حاصل کی۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں اسی میدان پر افغانستان کو ایک اننگز اور 73 رنز سے شکست دی گئی تھی، جو اس وقت اس کی سب سے بڑی ٹیسٹ کامیابی تھی۔











