اہم ترین

بابر اعظم کو پھر سے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی مل گئی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت میں ایک اور بڑی تبدیلی کرتے ہوئے شان مسعود کو کپتانی سے ہٹا کر بابر اعظم کو دوبارہ ذمہ داری سونپ دی ہے۔ بابر اعظم رواں ماہ شروع ہونے والے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے اہم دوروں میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کریں گے، یوں وہ تیسری بار اس فارمیٹ میں قومی ٹیم کے کپتان بن گئے ہیں۔

لاہور میں اتوار کو اسکواڈ کے اعلان کے موقع پر قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے بتایا کہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز نے تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ حالات میں بابر اعظم ہی پاکستان ٹیم کی قیادت کے لیے سب سے موزوں انتخاب ہیں۔ ان کے مطابق شان مسعود کی قیادت میں ٹیم وہ نتائج نہ دے سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی، اسی لیے تبدیلی ناگزیر سمجھی گئی۔

36 سالہ شان مسعود نے دسمبر 2023 میں بابر اعظم سے ٹیسٹ کپتانی سنبھالی تھی، تاہم ان کے دور میں پاکستان کو 16 ٹیسٹ میچز میں 12 شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان گزشتہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں نویں اور آخری پوزیشن پر ختم ہوا تھا، جبکہ موجودہ سائیکل میں بھی بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ 2-0 سیریز شکست کے بعد ٹیم دوبارہ نویں نمبر پر موجود ہے۔

بابر اعظم اس سے قبل بھی دو مرتبہ ٹیسٹ کپتانی کر چکے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار نومبر 2023 میں یہ ذمہ داری چھوڑی تھی، جبکہ بعد ازاں ایک اور مختصر دور کے بعد اکتوبر 2024 میں بھی کپتانی سے الگ ہو گئے تھے۔ اب انہیں ایک مرتبہ پھر ٹیم کی قیادت کے لیے چنا گیا ہے، اور ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بیرونِ ملک مشکل کنڈیشنز میں پاکستان کو بہتر نتائج دلانا ہوگا۔

پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔ پہلا ٹیسٹ 25 جولائی سے ٹرینیڈاڈ کے شہر تاروُبا میں شروع ہوگا، جبکہ دوسرا میچ 2 اگست سے پورٹ آف اسپین میں کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد قومی ٹیم انگلینڈ کا رخ کرے گی جہاں تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز شیڈول ہے۔ پہلا ٹیسٹ 19 اگست سے ہیڈنگلے، دوسرا 27 اگست سے لارڈز اور تیسرا 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں کھیلا جائے گا۔

قومی اسکواڈ میں بھی کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کا حصہ رہنے والے فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کو اس بار اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ نوجوان اور نئے چہروں کو موقع دیا گیا ہے۔ 20 سالہ ان کیپڈ فاسٹ بولر عبید شاہ، جو نسیم شاہ کے چھوٹے بھائی ہیں، پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ نسیم شاہ خود ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔

فاسٹ بولنگ لائن اپ میں خرم شہزاد، محمد عباس اور محمد علی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مڈل آرڈر بیٹر اویس ظفر اور بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان کو پہلی بار قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جو سلیکٹرز کی جانب سے نئے کمبی نیشن آزمانے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

پاکستان کے اعلان کردہ اسکواڈ میں بابر اعظم بطور کپتان، عامر جمال، عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، محمد رضوان، اویس ظفر، غازی غوری، ساجد خان، سلمان آغا، شان مسعود، عبید شاہ اور سعود شکیل شامل ہیں، جبکہ سعود شکیل کی شمولیت انگلینڈ سیریز کے لیے فٹنس سے مشروط رکھی گئی ہے۔

بابر اعظم کی واپسی کے ساتھ اب سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آیا وہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو مسلسل ناکامیوں کے سلسلے سے نکال کر ایک نئی سمت دے پاتے ہیں یا نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیم کو بیرون ملک دو سخت امتحانات کا سامنا ہے۔

پاکستان