کینسر ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جس کی تشخیص اکثر بہت دیر سے ہوتی ہے، اسی لیے لوگ اس سے بچاؤ کے لیے مختلف گھریلو ٹوٹکے آزماتے ہیں۔ ان ہی میں ایک مشہور خیال یہ بھی ہے کہ روزانہ لہسن کی ایک کلی کھانے سے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس دعوے کو مکمل حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق لہسن ایک صحت بخش غذا ہے جس میں متعدد مفید اجزا پائے جاتے ہیں، لیکن اسے کینسر کا علاج قرار دینا درست نہیں۔ اب تک کسی بھی انسانی تحقیق میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ لہسن کینسر کو ختم کر سکتا ہے یا یہ کسی بھی کینسر کے علاج کا متبادل ہے۔
ماہرین کے مطابق لہسن میں وٹامن بی، وٹامن سی اور کئی اہم مرکبات پائے جاتے ہیں۔ اس میں موجود ایلیسناور ایس ایل ایل سسٹین جیسے سلفر مرکبات میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی مائکروبیل اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ مطالعات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر ہفتے میں تقریباً 5 سے 10 گرام یا اس سے زیادہ لہسن استعمال کیا جائے تو معدے کے کینسر اور بعض آنتوں کے کینسر کے خطرے میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
لہسن میں موجود ایلیسن مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے اور بعض بیکٹیریا، وائرس اور فنگس کے خلاف جسم کے دفاعی نظام کو سہارا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے عام نزلہ، زکام اور معمولی انفیکشنز سے بچاؤ کے لیے بھی اسے مفید سمجھا جاتا ہے۔
لہسن بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے استعمال سے جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی پیداوار بہتر ہو سکتی ہے، جس سے خون کی شریانیں پھیلتی ہیں اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ لہسن کولیسٹرول کی سطح، خصوصاً خراب کولیسٹرول (ایل ڈی ایل)، کو کچھ حد تک کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرنے اور فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ لہسن کو متوازن غذا کا حصہ ضرور بنایا جا سکتا ہے، لیکن کینسر سے بچاؤ کے لیے صرف لہسن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ کینسر سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرزِ زندگی، متوازن خوراک، باقاعدہ طبی معائنہ اور خطرے کی صورت میں بروقت علاج زیادہ اہم ہیں۔











